نیلم پولیس نے خانیزمان کے اندھے قتل کا سراخ لگا دیا، اہلیہ ہی ملوث نکلی، پولیس نے اہلیہ اورمرکزی ملزم سمیت شریک ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
نیلم میں7 دسمبر 2025ء کوخانیز مان ولد سید عالم کی ہلاکت سے متعلق ایک خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے ساتھ مقتول کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی۔ تصویر میں مقتول کے گلے پر واضح زخم کے نشانات موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چڑہوئی ،فریاد بٹ قتل کیس کے ملزمان و سہولت کار گرفتار، سنسنی خیز انکشافات
واقعے کی سنگینی اور عوامی تشویش کے پیش نظر ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او شاردا فیاض سرور کو فوری طور پر موقع پر پہنچ کر قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں لانے اور واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔
ڈی ایس پی فیاض سرور نے اپنی زیرِ قیادت تفتیشی ٹیم کے ہمراہ پیشہ ورانہ مہارت، فہم و فراست اور جدید تفتیشی طریقۂ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بظاہر بلائنڈ واقعہ کی تہہ تک رسائی حاصل کی۔
دورانِ تفتیش شواہد، بیانات اور دیگر قرائن کی روشنی میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ واقعہ حادثہ نہیں بلکہ منظم قتل تھا۔پولیس نے اس حوالے سے مقدمہ علت نمبر 17/2025 زیرِ دفعاتPC 302، 109، 202 اور 20درج کر کے کارروائی کو باقاعدہ قانونی شکل دی۔
تحقیقات کے نتیجے میں اس سنگین واردات میں ملوث مقتول کی اہلیہ مسماۃ زرینہ، مرکزی ملزم غلام نبی اور دیگر شریک ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کو قانون کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے۔
ضلعی پولیس نیلم کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والے شکوک و شبہات کے برعکس، پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے قلیل وقت میں اس پیچیدہ اور حساس قتل کیس کو ٹریس کر کے عوام کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا
اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع نیلم محمد صدیق نے ڈی ایس پی فیاض سرور اور ان کی تفتیشی ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ قتل جیسے سنگین اور حساس مقدمے کو نہایت مہارت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ حل کرنا قابلِ تحسین عمل ہے۔
ایس پی نیلم محمد صدیق کی جانب سے ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او شاردا فیاض سرور کے حق میں ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں باقاعدہ “پروانۂ اظہارِ خوشنودی” جاری کیا گیا ہے، جو ان کے سروس ریکارڈ میں شامل رہے گا۔




