مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر میں ڈاکٹر عامر شہزاد کی تعیناتی، استعفے اور تبادلے کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔
ڈاکٹر عامر شہزاد اس سے قبل تقریباً دو سال تک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) مظفرآباد تعینات رہے اس دوران ان کے خلاف مختلف معاملات پر متعدد انکوائریاں شروع کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے ان انکوائریوں کیخلاف عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھے تھے۔معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب ڈاکٹر عامر شہزاد کو دوبارہ ڈی ایچ او مظفرآباد تعینات کیا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر عامر شہزاد نے 13 اگست 2026 کو ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا جس میں خاندانی ذمہ داریوں اور ذاتی مسائل کو ملازمت جاری نہ رکھنے کی وجہ قرار دیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد : بی آئی ایس پی کے تحت 22ہزار خاندانوں میں رقم تقسیم
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی صحت عامہ نے استعفیٰ منظورنہ کیا گیا اور بعد ازاں ڈاکٹر عامر شہزاد کو دوبارہ ڈی ایچ او مظفرآباد تعینات کروا دیا۔
ڈاکٹر عامر شہزاد تقریباً دو ماہ تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق استعفے کی درخواست اس وقت ڈی جی صحت عامہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے بھی استعمال کی گئی۔
دوسری جانب دستیاب تحریری استعفےپر ڈی جی صحت عامہ کے دفتر کی وصولی مہر بھی موجود ہے جبکہ اسی دستاویز پر درج دفتری نوٹ میں استعفیٰ منظور نہ کرنے اور آگے نہ بھیجنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
تازہ پیشرفت کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر ڈاکٹر عامر شہزاد کی تعیناتی سے متعلق تبادلے کا حکم منسوخ کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ درخواست پیش کی تاہم ان کی درخواست بھی خارج کر دی گئی۔
اس تمام صورتحال نے محکمہ صحت عامہ کے انتظامی معاملات پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ڈاکٹر عامر شہزاد نے ملازمت سے علیحدگی کیلئے باقاعدہ استعفیٰ دیا تھا تو اس کی قانونی اور دفتری حیثیت کیا رہی ؟؟
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر : اسلحہ لائسنس کی متعلقہ تھانوں میں رجسٹریشن لازمی قرار
استعفے کو منظور نہ کرنے کے باوجود دوبارہ تعیناتی کس بنیاد پر عمل میں لائی گئی سابقہ انکوائریوں کا نتیجہ کیا نکلا اور عدالتی احکامات کے بعد محکمہ نے کیا اقدامات کئے۔
شہریوں نے محکمہ صحت عامہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی وضاحت کریں اور استعفے، تعیناتی، انکوائریوں اور تبادلے سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر حقائق عوام کے سامنے لائیں۔




