مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی محترمہ سحرش قمر نے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل معیشت سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے تربیتی پروگراموں میں ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے کورسز شامل کرنے کی تجویز پیش کر دی۔
سحرش قمر نے آزاد حکومت کی جانب سے ٹیوٹا کے تحت مختلف فنی و تکنیکی کورسز کے لیے درخواستیں طلب کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو روایتی ہنر کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بیروزگار نوجوانوں کیلئے خوشخبری،ٹیوٹا کا سکلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع
اس مقصد کے لیے ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار سے متعلق کورسز متعارف کرائے جائیں تاکہ نوجوان محض فنی تربیت تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی مہارت کو عملی کاروبار اور روزگار میں تبدیل کر سکیں۔
محترمہ سحرش قمر نے تجویز دی کہ تربیتی پروگراموں کو مائیکرو ای کامرس کے عملی نظام سے بھی منسلک کیا جائے اور نوجوانوں کو آن لائن اسٹورز، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز اور ای کامرس کے دیگر ذرائع تک رسائی اور کام کرنے کی تربیت فراہم کی جائے، جس سے وہ مقامی سطح پر کاروبار شروع کرنے کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔
اس موقع پر ٹیوٹا کے انچارج وزیر حکومت عبدالرحمن آرائیں نے ایوان کو بتایا کہ تربیتی نظام کو کسی مخصوص دائرے تک محدود نہیں رکھا گیا۔ اراکین اسمبلی اپنی تجاویز پیش کریں، انہیں ضرور زیر غور لا کر تربیتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے گا۔
اسپیکر اسمبلی کی جانب سے جواب پر اطمینان کے بارے میں استفسار کیے جانے پر محترمہ سحرش قمر نے دلچسپ انداز میں کہا کہ وزیر حکومت نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے، تاہم وہ اپنی تجاویز باقاعدہ پروپوزل کی صورت میں ایوان میں پیش کریں گی اور چاہتی ہیں کہ ان پر عملی طور پر عملدرآمد کیا جائے۔
وزیر حکومت عبدالرحمن آرائیں نے اس پر تجاویز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ڈولفن فورس میں بھرتی، کشمیری نوجوان بھی اہل قرار
مجوزہ کورسز کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرکے روزگار کے روایتی ذرائع کے ساتھ آن لائن کاروبار، فری لانسنگ اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی کے قابل بنانا ہے۔
اس نوعیت کی تربیت آزاد کشمیر میں نوجوانوں کے لیے خود روزگاری، کاروباری مواقع اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔




