خاتون وکیل کی اے آئی سے بنائی گئی وائرل ویڈیوز کا معاملہ سائبر کرائم ایجنسی پہنچ گیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ مبینہ ’خاتون وکیل‘ کی ویڈیوز کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) تک پہنچ گیا ہے۔ 

علشبہ ایڈووکیٹ نامی خاتون کی متعدد مشہور شخصیات کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیوز سامنے آئی تھیںجن کے وائرل ہونے کے بعد اے آئی سے بنائے جانے کا انکشاف سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک۔اقوام متحدہ کانفرنس: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی اور جیو اے آئی استعمال پر زور

لاہور میں ایڈووکیٹ آصف محمود کی جانب سے این سی سی سی آئی اے کو جمع کرائی گئی تحریری درخواست میں ٹک ٹاک پر مبینہ جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی اشاعت پر تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق ٹک ٹاک پر ایڈووکیٹ علشبہ نور، ایڈووکیٹ علشبہ میڈم، شوال ایمان، کوئین مانو، علشبہ ایڈووکیٹ اور دیگر ناموں سے موجود سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں ایک خاتون کو وکلا کے روایتی سیاہ کوٹ اور یونیفارم میں دکھایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ مواد نامناسب اور توہین آمیز انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف وکلا کے پیشے کا تشخص متاثر ہو رہا ہے بلکہ خواتین وکلا کو بھی سوشل میڈیا پر تضحیک اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ٹِک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر موجود چند مخصوص اکاؤنٹس پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں اس مبینہ خاتون وکیل کو کئی مشہور شخصیات کے ساتھ وکیل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں انہیں لاہور کی عدالت کے احاطے میں مشہور یوٹیوبر رجب بٹ اور ایک اور ویڈیو میں لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے ہمراہ دکھایا گیا تھا۔

ویڈیوز سامنے آنے کے بعد کئی صارفین اے آئی سے بنی اس خاتون وکیل کو ان شخصیات کی وکیل قرار دیتے رہے جب کہ ان فرضی اکاؤنٹس کے فالوورز بھی ہزاروں میں پہنچ گئے ہیں۔

ان ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے بعض صارفین اس خاتون وکیل کے مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہونے کے دعوے بھی کرتے رہے، تاہم اب اس حوالے سے باقاعدہ سائبر کرائم ایجنسی کو درخواست جمع کروائی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے اثرات:نیدرلینڈز کا 25ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا پلان تیار

ایڈووکیٹ میاں آصف محمود نے اپنی درخواست میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اکاؤنٹ کسی نامعلوم فرد یا گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مقبولیت، تشہیر اور مالی یا دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا اور اسی مقصد کے لیے چلایا جا رہا ہے۔

درخواست میں مختلف قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے ان اکاؤنٹس کی حقیقت، اسے چلانے والے افراد کی شناخت اور اس مواد کی تیاری میں کسی حقیقی شخص کی تصاویر یا ظاہری شناخت کے ممکنہ استعمال کی تحقیقات ضروری ہیں۔