پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف دائر درخواستوں پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں یہ اقدامات آئینی تقاضوں کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کئے گئے۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ اس دوران وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کیلئے مخصوص شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔ان کے مطابق صوبائی حکومت اور اسمبلی فعال تھیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پختونخوا میں ایمرجنسی وگورنر راج کے نفاذ کی توثیق،قومی اسمبلی، سینیٹ اجلاسوں کی حکمت عملی طے
درخواست گزاروں کے وکلا نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کیخلاف کارروائی صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر غیر معمولی اقدامات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت میں قراردادیں منظور کی تھیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں آئینی اقدام قرار دیا تھاجبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا تھا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے میں آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
بیرسٹر سمیر کھوسہ نے الزام لگایا کہ گورنر راج سیاسی مقاصد کے لیے نافذ کیا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ پارٹی نے دونوں اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرنے کے ساتھ لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست بھی کی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پختونخوا حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی ، مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا، وزیراعظم
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ پر زور دیا۔ اب اس معاملے میں پشاور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔




