مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ شہریوں نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر سوالات اُٹھاتے ہوئے وزیراعظم افتخار گیلانی اور وزیر جنگلات سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم ویلی جانے والی مرکزی شاہراہِ پر ربانی کے مقام پر قیمتی لکڑی گزشتہ چار روز سے سڑک کنارے پڑی ہونے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی نہ کئے جانے پر محکمہ جنگلات کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے جنگلات میں قیمتی لکڑی گلنے سڑنے لگی، ٹمبر مافیا کے سرگرم ہونے کا انکشاف
مظفرآباد سے جہلم ویلی جانے والی مرکزی شاہراہ کے قریب ربانی کے مقام پر قیمتی لکڑی کھلے عام پڑی ہوئی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ لکڑی کس کی ملکیت ہے اور اسے وہاں کس مقصد کیلئےرکھا گیا ہے۔
شہریوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ اگر لکڑی قانونی طور پر کاٹی گئی ہے اور اس کے مالکان کے پاس ضروری اجازت نامہ موجود ہے تو اسے چار روز سے سڑک کنارے اس طرح کیوں رکھا گیا ہے؟ ۔
اگر لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹی گئی ہے تو اب تک اسے ضبط کرکے محکمہ جنگلات کے متعلقہ دفتر منتقل کیوں نہیں کیا گیا کہ اگر مرکزی شاہراہ کے قریب قیمتی لکڑی کی موجودگی متعلقہ حکام کی توجہ حاصل نہیں کر پا رہی۔
دور درازجنگلات میں درختوں کی حفاظت اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کی صورتِ حال کیا ہوگی؟ اس معاملے نے محکمہ جنگلات کی نگرانی اور ذمہ دار افسران کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
شہریوں کے مطابق آزاد کشمیر کے جنگلات خطے کی قدرتی خوبصورتی، ماحولیاتی توازن اور سیاحت کے فروغ میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: سمگلنگ کا انوکھا واقعہ،آئل ٹینکر کے خفیہ خانوں سے قیمتی لکڑی برآمد
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور غیر قانونی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آزاد کشمیر کے قیمتی جنگلات کو تباہی سے بچایا جا سکے۔




