پی پی پی آزاد کشمیر کا 70 ارب روپے کے پیکیج میں لیپہ ٹنل کی تعمیر کو شامل کرنے کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے بارہا کیے گئے وعدوں اور باضابطہ اعلانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک اہم مطالبہ سامنے لایا گیا ہے۔ تنظیم نے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے مختص 70 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کے اندر لائن آف کنٹرول پر واقع وادیٔ لیپہ کے دیرینہ عوامی مطالبے ‘لیپہ ٹنل’ کے میگا پراجیکٹ کو حکومت کے سو روزہ اصلاحاتی پروگرام میں شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کو اس تاریخی منصوبے کی حساسیت اور اہمیت کا اچھی طرح سے ادراک ہے، لہٰذا وہ تاریخ میں اپنے آپ کو امر کرنے کا یہ سنہری موقع ہرگز ضائع نہ ہونے دیں۔ اس کے ساتھ ہی وادیٔ لیپہ کی 80 ہزار سے زائد آبادی کو شدید برفباری اور بھارتی افواج کی بلااشتعال گولہ باری سے درپیش سنگین مشکلات، مخصوص جغرافیائی و موسمی حالات، ناقابلِ تسخیر دفاع اور عوامی مفادات کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز / چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل / جنرل حافظ سید عاصم منیر سے دونوں حکومتوں کے درمیان ٹنل کی تعمیر کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

لیپہ ٹنل کی تاریخی پس منظر اور سابقہ اقدامات:

گزشتہ روز وادیٔ لیپہ کے اس دیرینہ متفقہ عوامی مطالبے پر توجہ دلاتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سابق مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان حکومت شوکت جاوید میر نے میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 میں جب میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور اسحاق ڈار وزیر خزانہ کے فرائض منصبی ادا کر رہے تھے، اس وقت آزاد کشمیر میں چوہدری عبدالمجید کی قیادت میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت نے کورین کمپنی سے ساڑھے تین کروڑ روپے کے اخراجات سے ٹنل کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کروائی تھی اور ان کی تحریک پر سات ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں مختص کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ تمام منصوبے ڈراپ کر دیے تھے۔ یہ حالت اس کے باوجود ہوئی کہ میاں محمد نواز شریف نے کوٹلی یونیورسٹی کالج گراؤنڈ مظفرآباد اور میاں محمد شہباز شریف نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سید پورہ لیپہ ویلی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے لیپہ ٹنل کی تعمیر کے لیے فنڈز کی فراہمی کے واضح وعدے اور باقاعدہ اعلانات بھی کیے تھے۔

جانی و مالی خطرات، دفاعی اور معاشی فوائد:

شوکت جاوید میر نے کہا کہ وادیٔ لیپہ میں شدید برفباری کے دوران راستوں کی بندش کی وجہ سے ان گنت انسانی زندگیاں موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔ ریشاں لیپہ سڑک پر نہ صرف عام سول آبادی بلکہ متعدد فوجی آفیسران اور جوان بھی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ اس لیے لیپہ ٹنل کی تعمیر سے ناقابلِ تسخیر دفاع کے تقاضے بھی پورے ہوں گے، سیاحت کو نمایاں فروغ ملے گا، اور منرل و ہائیڈرل کے مختلف منصوبہ جات کی شروعات سمیت قیمتی لکڑی اور معدنیات کی ترسیل سے قومی آمدن کے ذخائر محفوظ ہو جائیں گے جو معاشی و اقتصادی استحکام، روزگار کی فراہمی، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی ضروریات میں بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ زکوۃٰ کا منافع فنڈ بجٹ اجلاس چار ماہ سے التوا کا شکار

انہوں نے کہا کہ لیپہ ویلی کے عوام کو انسانی بنیادوں پر عصرِ حاضر کی تمام سہولیات مہیا کی جائیں جو ان کے بنیادی آئینی اور انسانی حقوق میں شامل ہیں۔ وادیٔ لیپہ کے اندر اتنے زیادہ قدرتی ذخائر موجود ہیں کہ جن کی درست نکاسی سے سونے جیسے وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

آتشزدگی کے واقعات، متاثرین کا استحصال اور افواجِ پاکستان کا کردار:

ایک سوال کے جواب میں شوکت جاوید میر نے حالیہ آتشزدگی کے دلخراش واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لیپہ ویلی کے مین بازار کپہ گلی میں مسجد شریف سمیت 50 دکانیں اور سیب و اخروٹ کے درجنوں درخت آگ کے شعلوں میں جل کر راکھ ہو گئے، جبکہ خیراتی باغ میں ایک تین منزلہ مکان جل گیا اور نوکوٹ گاؤں کے ملاں چوک میں آگ بھڑکنے سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل گیا اور دکانیں و مکانات راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات کیے یا وسائل فراہم کیے اس کی تفصیل سامنے لائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم افواجِ پاکستان کے مثالی کردار پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور کمانڈنگ آفیسران جیسی احساس رکھنے والی شخصیات کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے باوقار امداد کی اور متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا، جبکہ دوسری جانب حکمران پارٹی کے شکست کھانے والے ٹکٹ ہولڈر عوام پر طعنہ زنی کر رہے ہیں اور پیسے لینے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

سیاسی، سماجی اتحاد اور سخت احتجاج کی خبردار:

ایک اور سوال کے جواب میں شوکت جاوید میر نے کہا کہ وادیٔ لیپہ کی تمام سیاسی، مذہبی، سماجی، طلباء، تاجر و وکلاء تنظیمیں اور سول سوسائٹی ٹنل کی تعمیر کو آنے والی نسلوں کے لیے لائف لائن سمجھتی ہیں۔ اگر وادیٔ لیپہ کو ٹنل تعمیر کے میگا پراجیکٹ اور قانون ساز اسمبلی میں اضافی حلقہ بنانے کے مطالبات سے نظر انداز کیا گیا تو نوجوان نسل شدید مزاحمت کے لیے تیار ہو چکی ہے اور پھر دما دم مست قلندر شروع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کی تمام جمہوری قوتیں، سیاستدان، دانشور، الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل و ڈیجیٹل میڈیا، بااختیار قوتیں، پالیسی ساز ممبرانِ اسمبلی اور حریت کانفرنس لیپہ ویلی ٹنل کی تعمیر کے لیے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ ہم کسی سے خیرات نہیں مانگتے، لیکن بعض ناعاقبت اندیش کرداروں کے کان میں جب لیپہ ویلی ٹنل تعمیر اور اضافی نشست کے مطالبے کی آواز پڑتی ہے تو ان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے افواجِ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی دور اندیش پالیسیوں کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف، کور کمانڈر 10 کور، چنار ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور لیپہ گارڈز کے ذمہ داروں سے حصولِ لیپہ ٹنل کے لیے تسلسل جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔