ضلعی انتظامیہ بنوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممبر قومی اسمبلی (ایم این اے) مولانا نسیم علی شاہ کو ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3(1) کے تحت 30 روز کے لیے سینٹرل جیل ہری پور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی نظر بندی کا عمل جاری رہے گا۔ یہ اہم پیش رفت اور قانونی قدم ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں کی مرتب کردہ رپورٹ پر امن و امان کی بحالی اور عمومی عوامی سلامتی کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ بنوں کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور رسمی حکم نامہ بتاریخ 19 اکتوبر 2026 کے مطابق ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ ولد نصیب علی شاہ، سکنہ غوری والا بنوں، کی جانب سے امن و امان میں خلل ڈالنے، انتشار پھیلانے اور مختلف منفی سرگرمیوں سے علاقے میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال شدید متاثر ہونے کا واضح خدشہ موجود تھا۔
پولیس رپورٹ اور عائد کیے گئے الزامات:
ڈپٹی کمشنر بنوں ضیا الرحمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ آرڈر میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں کے مراسلہ نمبر 6279/PA بتاریخ 19 اکتوبر 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے متن کے مطابق مذکورہ فرد ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے جس پر انتظامیہ نے فوراً نوٹس لیا۔
اس کے علاوہ ان پر مقامی رہائشیوں کو غیر قانونی احتجابی مظاہروں پر اکسانے، عام شاہراہوں کو بند کرنے اور سرکاری اہلکاروں کی سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں عملاً رکاوٹیں ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان تمام تر عوامل کو بنیاد بناتے ہوئے یہ قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بونیر : سرکاری گاڑیوں کی عدم واپسی پر پی ٹی آئی وزراء کے خلاف مقدمات درج
سرکاری مراسلے کے اقتباسات اور تحویل کے احکامات:
ڈپٹی کمشنر بنوں کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دستیاب دلائل اور مواد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مذکورہ رکن قومی اسمبلی کی آزادانہ نقل و حرکت سے عوامی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اس سے امن و امان کی مجموعی صورتِ حال بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی مواد کی روشنی میں ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس تھری ایم پی او 1960 کا سہارا لیتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ مولانا نسیم علی شاہ کو تحویل میں لے کر فوری طور پر سینٹرل جیل ہری پور منتقل کیا جائے جہاں وہ 30 دن کی مدت کے لیے نظر بند رہیں گے۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی نظر بندی کی یہ مدت ان کی گرفتاری اور تحویل کے وقت سے شروع ہوگی۔
مراسلے کی کاپیاں اور قانونی پس منظر:
اس احکامات کی باقاعدہ کاپیاں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم اینڈ ٹی اے ایس ڈیپارٹمنٹ پشاور، کمشنر بنوں ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر بنوں، آر پی او ہزارہ ڈویژن، ڈی پی او بنوں، ڈی پی او ہری پور اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل ہری پور کو ضروری کارروائی اور تحویل میں رکھنے کی ہدایت کے ساتھ ارسال کر دی گئی ہیں۔
مغربی پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کا سیکشن 3 ضلعی انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے کی خاطر پیشگی نظر بند کر سکتی ہے جس کی سرگرمیوں سے نقضِ امن کا خطرہ ہو۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور گردونواح کے علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیکیورٹی صورتِ حال اور احتجاجی مظاہروں کے باعث انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں، جبکہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے خلاف اس قانون کا استعمال انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں کی کشادگی اور شاہراہوں کی روانی برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔




