اسلام آباد:خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق اور منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں آج قراردادیں پیش کی جائیں گی جن کی منظوری کیلئے حکمت عملی طے کر لی گئی ہے جبکہ دونوں ایوانوں میں دیگر اہم قانون سازی اور عوامی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے۔
سینیٹ کا اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا، جس میں وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری کے لیے قرارداد پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پختونخوا حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی ، مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا، وزیراعظم
قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری شامل ہے،دونوں ایوانوں میں قراردادیں پیش کیے جانے کے بعد منظوری سے متعلق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
سینیٹ کے اجلاس میں ورچوئل اثاثوں، عمومی کاسمیٹکس، غیر ملکی سرمایہ کاری، الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات اور اسلام آباد میں صارفین کے تحفظ سے متعلق قانون سازی پر قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کی جائیں گی،پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم سے متعلق رپورٹ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
اجلاس میں بلوچستان کے رخشان اور مکران ڈویژنز کے رہائشیوں کے شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا،اس کے علاوہ بلوچستان کے غیر سرکاری رکن کی شمولیت کے بغیر ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کی تشکیل نو سے متعلق معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صدر مملکت کے 2 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک بھی پیش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: یہ 13سالہ نااہلی کا قصورہے ،مریم نواز کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر ردعمل
دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر جمعرات صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی توثیق ہوگی۔




