اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہاہے کہ شہریوں کو مفت قانونی رہنمائی کیلئے عدالت آنے یا اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں،گھر بیٹھے سپریم کورٹ کے 1818لیگل کال سینٹر پر رابطہ کرکے قانونی مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹرکی سروس کا افتتاح کیا گیا جس میں ججز نے بھی شرکت کی۔چیف جسٹس نے بار نمائندگان کے ساتھ ملاقات بھی کی،مستحق شہریوں کو مفت قانونی مشورے اور معاونت کیلئے مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے نئے عدالتی سال کا آغاز، 2325 مقدمات کے فیصلے اور اہم اعلانات
1818لیگل کال سینٹر سے وکلا ،سائلین اور شہری مقدمات کی صورتحال، تاریخ، کاز لسٹ اور عدالتی فیصلوں کی نقول سے متعلق رہنمائی حاصل کر سکیں گے ۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے قرار دیا ریمانڈ کے بعد سیلز ٹیکس کیس کا فیصلہ45روز میں کرنا لازم ہے۔
اپیلیٹ فورم کی جانب سے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے بھجوانے سے متعلقہ حکام کو غیر معینہ مدت تک کارروائی جاری رکھنے کا اختیار نہیں مل جاتا۔
تین رکنی بنچ نے کارپوریٹ ٹیکس کی اپیل مستردکر دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ جلد سماعت کی درخواست کے ساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے ،اب فیکسیشن پالیسی کے برعکس کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا شیڈول، اہم نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ متوقع
سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹائون کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی بریت کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران پراسیکیوٹر سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی۔




