سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں گرمائی تعطیلات کے اختتام کے بعد نئے عدالتی سال کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مقدمات کی باقاعدہ سماعتیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔
اس موقع پر سپریم کورٹ میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان، سینئر جج جسٹس رضا علی خان، جسٹس خالد یوسف چوہدری، ایڈووکیٹ جنرل، بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران سمیت نامور وکلاء نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف صرف عدالتی فیصلہ سنانے کا نام نہیں ہے بلکہ فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر یا خلاف ورزی سے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ فاروق ،دیگر سیاسی کارکنان کی گرفتاری کے خلاف رٹ پٹیشن پر سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی
عدالتی احکامات کی پاسداری، ٹیکنالوجی کا فروغ اور اے ڈی آر نظام:
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ان کا ڈسپلن اور احتساب کا اصول بالکل واضح ہے اور عدالتی فیصلوں پر من و عن عملدرآمد ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ترقیاتی ادارہ میرپور کی جانب سے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہرگز قابلِ قبول نہیں اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ سپریم کورٹ میں آن لائن پبلک فسیلیٹیشن پورٹل، ای کاپی، ای چالان، اے ٹی ایم بینک ڈیسک اور دیگر سہولیات پر کام جاری ہے اور میرپور میں جدید ای کورٹس کے قیام کا بھی منصوبہ زیرِ غور ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آزاد کشمیر میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے نظام کو متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
گزشتہ عدالتی سال کی کارکردگی اور اہم احکامات:
چیف جسٹس نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں کل 2325 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے تمام ججز اور وکلاء کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقدمات کے بروقت فیصلوں کے لیے بار اور بینچ کا باہمی تعاون ناگزیر ہے. انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں فوڈ اتھارٹی اور فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو فعال بنانے، جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، شہریوں کے بنیادی حقوق، صحت، تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس سے متعلق بھی متعدد اہم احکامات جاری کیے جا چکے ہیں.




