برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کے استعفے سے خالی ہونے والی پارلیمنٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی ساگل عبدی ولی نے جیت لیا۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی کی ساگل عبدی ولی 12 ہزار 292 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں، دوسرے نمبر پر گرین، تیسرے پر کنزرویٹیو اور چوتھے پر ریفارم یوکے کے امیدوار آئے۔
یہ بھی پڑھیں:روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری ،پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی
کامیابی کے بعد ساگل عبدی ولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حلقے کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلقے کے عوام امید کی طرف دیکھ رہے ہیں، چاہتی ہوں نوجوانوں کو مزید مواقع ملیں۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی کی اس کامیابی سے گرین پارٹی کے لیڈر زیک پولانسکی کی قیادت خطرے میں پڑ گئی۔
لیبر امیدوار ساگل عبدی ولی نے 45 فیصد ووٹ حاصل کیےجبکہ پولانسکی کے حصے میں 33 فیصد ووٹ آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدی ولی کے حق میں تین عوامل نے کام کیاجن میں پارٹی کے ساتھ ان کی طویل وابستگی ، دوسری یہ حقیقت کہ وہ اسی علاقے میں رہتی ہیں،وہ 2022 میں کونسلر منتخب ہوئیں اور بعد ازاں مقامی کونسل کی سربراہ بنیںاور اس لیے وہ علاقے اور وہاں کے رہائشیوں کو بخوبی جانتی ہیں۔
تیسرا عنصر ان کی ذاتی پس منظر کی کہانی ہے۔ عبدی ولی بچپن میں پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ آئی تھیں؛ وہ جنگ سے متاثرہ صومالیہ سے اپنے والدین کے ہمراہ نقل مکانی کر کے یہاں پہنچی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی ممکنہ تقسیم، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور آئرلینڈ متحد، علیحدگی کا مطالبہ کردیا
انتخاب میں ووٹنگ کا تناسب 38.7 فیصد رہا جو تاریخ کی کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے، اور لیبر پارٹی کی پوزیشن کمزور ہوئی ، سٹارمر 2024 میں 49 فیصد ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے جبکہ پارٹی نے 2019 میں 66 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔تاہم، وہ پولانسکی کی جانب سے درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔
برنہم نے نومنتخب رکنِ پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہولبورن اور سینٹ پینکراس نے امید کے حق میں ووٹ دیا ہے۔سٹارمر نے بھی عبدی ولی کو مبارکباد دی اور انہیں کمیونٹی کا ایک شاندار نمائندہ قرار دیا ہے۔




