پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ محاذ آرائی اور انتہا پسندی کی سیاست سے جماعت کا سیاسی کردار مزید محدود ہوسکتا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو انتہائی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے آخری آپشن کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کےنفاذکی تیاری مکمل ہے،شیرافضل مروت کادعویٰ
کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں 25 ایکڑ پر مشتمل کے ایم سی اسپورٹس کمپلکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حامی تو موجود ہیں، لیکن جماعت اپنی سیاست کے ذریعے انہیں مایوس کررہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ضد برقرار رہی تو صوبائی حکومت میں بھی اس کا کردار باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص ہیں تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اسی انداز میں جاری رہی تو بانی پی ٹی آئی، آصف علی زرداری کے قید میں رہنے کا ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں اور جیل میں ہی رہیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ان کی بات مانتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے یہ بھی پوچھا کہ انہوں نے مذاکرات کے عمل کو نقصان کیوں پہنچایا۔
پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے انتہا پسندی کی سیاست کی جائے تو زیادہ مقبولیت حاصل ہوسکتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرزِ سیاست کا نقصان خود جماعت کو پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نہ صوبے کی سیاست میں کوئی کردار رہا ہے اور نہ وفاقی سیاست میں، جب کہ اب اگر اس کی ضد برقرار رہی تو صوبائی حکومت میں بھی اس کا کردار محدود ہوجائے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج کراچی کی سیاست میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دو ہی جماعتیں ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کا سیاسی جماعتوں، عدالتوں، اسٹیبلشمنٹ اور ایک دوسرے کے ساتھ بھی جھگڑا رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں خود شریک نہیں ہوتی، جب کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمان میں انتخابی اصلاحات کی کمیٹی بنانے پر آمادہ ہوگئی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق انتخابی دھاندلی کا سب سے زیادہ شور مچانے والے ہی یہ کہیں گے کہ وہ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں نہیں بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت لانگ مارچ سے بلیک میل نہیں ہوگی، خواجہ آصف کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے تو مذاکرات کے ذریعے خیبرپختونخوا میں حکومت چلانے کے لیے اپنی جماعت کا حق حاصل کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی کارکنوں کو مایوس ہونے سے بچانا ہے تو انتہا پسندی کی سیاست ترک کرنا ہوگی۔
بلاول بھٹو نے یاد دلایا کہ 2008 میں پیپلزپارٹی کو ووٹ ملا اور حکومت بھی ملی، لیکن پنجاب میں حکومت نہیں ملی۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری عمل اور مذاکرات کو جاری رکھنا ضروری ہے۔




