ہٹیاں بالا: پے درپے سانحات، حکومتی لاپرواہی سامنے آگئی،شوکت جاوید میر

ہٹیاں بالا،وادئ لیپہ(کشمیر ڈیجیٹل)سابق ترجمان حکومت شوکت جاوید میر نے پارٹی عہدیداروں کارکنوں کے ہمراہ نوکوٹ آتشزدگی سے تباہ حال جگہ کا دورہ۔

متاثرہ تاجروں اور مکان مالکان کے علاوہ معززین علاقہ سے ملاقات کی، ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ آتشزدگی کے بھڑکنے والے شعلے بجھانے میں نوکوٹ کے بزرگوں، نوجوانوں کا جذبہ احساس  اور میڈیا کے کردار کو سراہا۔

وادئ لیپہ میں پے در پے خوفناک آتشزدگی کے تینوں سانحات میں کپہ گلی بازار، نوکوٹ ملاں چوک،خیراتی باغ تاجروں اور مالکان کے کروڑوں روپے کے نقصانات اور قیمتی عمارات کے جل کر راکھ کا ڈھیر ہونے کے باوجود حکومتی بے حسی پر عوام علاقہ کا شدید احتجاج ۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی سے متاثرین کیلئے امدادی پیکیج دینے کا پرزور مطالبہ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 خارجی ہلاک

جبکہ پاک فوج کی بروقت امدادی کارروائیوں اور مالی معاونت پر چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر جنرل کمانڈنگ آفیسر چنار ڈویژن میجر جنرل ضرار محمود کمانڈر لیپہ گارڈز برگیڈیئر عامر فرید خان اور برگیڈیئر ریحان مقامی یونٹس کے کمانڈنگ آفیسران کے انسانی اسلامی کردار کو شاندار الفاظ میں سراہا گیا ۔

شوکت جاوید میر نے کہا کہ وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی اگر بھمبر اور کوٹلی کا دورہ کر سکتے ہیں تو لائن آف کنٹرول پر بھارتی قابض افواج کی گولہ باری جیسے مظالم برداشت کر کے نظریئہ استحکام پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونے والے عوام کو دونوں حکومتوں نے کیوں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے ؟

سابق ترجمان حکومت شوکت جاوید میر نے کہا کہ کیپہ گلی بازار آتشزدگی میں پچاس کے لگ بھگ تاجروں اور دوکانات خیراتی مکان مالکان ملاں چوک نوکوٹ کے متاثرین کو لگائے جانے والے تخمینہ کے مطابق پورے پورے معاوضہ جات کی یکمشت ادائیگی کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر بینک سے دس سے پچاس لاکھ تک بلا سود قرضوں کی اجرائیگی آسان شرائط پر کرنے جستی چادریں تعمیراتی میٹریل اور لکڑی فراہم کرے ۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کی ناقص ترین کارکردگی کی باز پرس نہ کی گئی تو ساری ذمدادی انکے اعلیٰ حکام پر عائد ہو گی ۔

انھوں نے کہا سابق وزیر تعلیم ممبر قانون ساز اسمبلی حلقہ سات دیوان علی خان چغتائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد مصروف تھے

مزید یہ بھی پڑھیں:باغ شہر کے غیرت مند شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو مکمل مسترد کر دیا

تاہم انہوں نے وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی سمیت متعلقہ فورمز پر مثاترین کے حقوق کی جاندار نمائندگی کا فریضہ انجام دیا ۔

حکومت نے متاثرین کی آباد کاری اور تعمیر نو کیلئے تجاویز کو نظر انداز کیا تو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی دیوان علی خان چغتائی تحریک التواء بھی پیش کریں گے ۔

سابق وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پوری پارلیمانی پارٹی اس وقت تک واک آؤٹ(احتجاج)جاری رکھے گی جب تک لیپہ ویلی آتشزدگی کے متاثرہ خاندانوں تاجروں کے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوجاتا ْ۔

ایک سوال کے جواب میں شوکت جاوید میر نے کہا کیپہ گلی بازار میں جامع مسجد شریف بھی شھید ہوئی اسکی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں کپہ گلی بازار کے ساتھ اخروٹ سیب کے پھلدار درختوں کا معاوضہ نہیں دیا جا رہا جو نا انصافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوکوٹ ملاں چوک کے تاجروں کی جمع پونجی خاکستر ہونے پر کسی حکومتی شخصیت کا دورہ نہ کرنا اور کپہ گلی بازار آتشزدگی کے متاثرہ تاجروں سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو شدید عوامی مزاحمت ابھرے گی۔

حلقہ سات لیپہ ویلی سے دو مرتبہ کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد اہم وزارتیں حاصل کرنے اور حالیہ انتخابات میں بیس ہزار سے زائد ووٹ لینے والے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری رشید کی خاموشی مکمل لا تعلقی اور نوکوٹ کے دورہ نہ کرنا سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی عدم دلچسپی نے بڑے تلخ سوالات اٹھا دئیے ۔

اس لئے کہ راجہ محمد فاروق حیدر خان کو بھی نوکوٹ کے عوام نے بحثیت امیدوار اسمبلی حلقہ سات اچھے خاصے ووٹ دئیے تھے جس کے بعد وہ لیپہ ویلی کو بھول چکے ہیں۔