نیلم ویلی: کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند سرگرم، شہری کی جوانسال بیٹی اغواء

نیلم(راجہ ساجد،کشمیر ڈیجیٹل) وادی نیلم کے بالائی سیاحتی مقام گریس ویلی پھولاوئی گاوں ڈنہ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے غنڈوں نے اسلحہ کی نوک پر شریف شہری کی بیٹی کواغواء کر لیا ۔

ذرائع کے مطابق13روز گزرنے کے باوجود مغویہ بازیاب نہ ہوسکی ،پولیس بھی کارروائی سے گریزاں ہے ۔

مغویہ کے والد عمران چوہدری ،اور بھائی محمدصادق کے مطابق ایکشن کمیٹی سے منسلک غنڈوں نے 28ستمبرکی شام سات بجے قریب ان کے گھر کے ساتھ مویشیوں کے باڑے سے مسماۃ(آ)کو اسلحہ کی نوک پر غائب کرلیا۔

غنڈوں نے جونواں سالہ لڑکی کو اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ چوہدری عمران والد مغویہ 4اغواء کاروں نے مغویہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرصحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی بھمبر پہنچ گئے، عوامی خدمت کا عزم

اغواء کاربااثر ہونے کی وجہ سے پولیس کاروائی سے گریز کررہی ہے۔اغواء کارپولیس سے کاروائی نہ کرنے کیلئے جان سے مارنے اور مزید خواتین کو اغواء کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

چوہدری عمران کے مطابق مغویہ آسیہ 13دن سے لاپتہ ہےپولیس کا اغواء کاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنا ملی بھگت لگ رہی ہے۔مغویہ کی بازیابی اورہماری دادرسی نہیں کی جارہی ۔

والد اور بھائی کا وڈیو بیان میں کہا کہ مغویہ آسیہ کا زندہ مردہ کا کوئی پتہ نہیں، اغواء کارعلاقہ میں میں اسلحہ لہراتے دندناتے پھر رہے ہیں۔

تھانہ پولیس کیل نےمغویہ کے والد چوہدری عمران کی مدعیت میں نامزد 6اغواء کاروں وحید،فرید،حنیف،ظہور پسران سبیل حکیم ولد مسکین،وقارولدبصیر کے خلاف زیر دفعات بجرائمPC109-377/A-مقدمہ علت نمبر 19/26 ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:100روزہ اصلاحاتی پروگرام ،محکمہ سیاحت آزادکشمیر کی سرگرمیاں تیز

اغواء کاروں کی گرفتاری اورمغویہ کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں سید امداد علی شاہ ایس ایچ او تھانہ کیل نے بتایا کہ اغواء کار کالعدم ایکشن کمیٹی کے سرگرم کےرکن ہیں۔

اغواء کارمغویہ کو لے کرروپوش ہیں گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ایکشن کمیٹی کی آڑ میں جرائم پیشہ عناصرسرگرم  شہریوں میں خوف ہراس پھیلایا ہواہے۔

مغویہ کے والدچوہدری عمران،بھائی محمد صادق نے وزیر اعظم آزادکشمیر آئی جی پولیس نوٹس لینے مغویہ آسیہ کی بازیابی کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس قانون کی عملداری کیلئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کروائیں۔

ہم پر اغواء کاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے اور اغواءکاروں سے جرگہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے ہم سے 50ہزار نقدی لینے کے باوجودمغویہ کی بازیابی میں لیت لعل سے کام لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری جان املاک کو خطرہ ہے حکومت ان کے خاندان کو تحفظ دے اور اغواء کاروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انھیں انصاف دیا جائے ۔