ریاض(کشمیر ڈیجیٹل)سعودی وزارتِ داخلہ نے پاکستانیوں سمیت ملکی و غیر ملکی شہریوں کو خبردار کیا کہ میزائلوں یا ڈرونز کی ویڈیوز بنانے، تصاویر اور سوشل میڈیا یا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شیئر کرنا قانوناً ممنوع ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق امور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ فوجی یا دفاعی کارروائیوں کی فلم بندی، تصاویر بنانا یا ان سے متعلق مواد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلانا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
وزارتِ داخلہ نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، خواہ وہ سعودی شہری ہوں یا غیر ملکی مقیم۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد جموں و کشمیر کونسل کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،وزیراعظم شہبازشریف کی شرکت
دوسری جانب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ اتحاد برائے دفاع کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں سمیت سعودی عرب کے شہروں، شہریوں اور معاشی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو مسترد کرتے ہوئے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عملی اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تینوں ممالک نے طے شدہ فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی منظوری دی، جبکہ سعودی عرب میں ان دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد جموں و کشمیر کونسل کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،وزیراعظم شہبازشریف کی شرکت
مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات تینوں ممالک کی دفاعی تیاری، عسکری انضمام اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی اجتماعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
تینوں ممالک نے اس عزم کی بھی توثیق کی کہ کسی ایک رکن ملک کی سلامتی، تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔



