پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے قومی کرکٹر محمد رضوان کے معاملے پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ ماضی میں انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کراچی میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انہیں بھی ایک معاملے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس حوالے سے معاملات تقریباً 4 ماہ تک جاری رہے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی سی بی : یونس خان اور حفیظ کو اہم ترین ذمہ داریاں ملنے کا امکان
سابق کپتان نے کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے، اس لیے ایسے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملے پر حتمی رائے قائم کرنے سے قبل مکمل حقائق اور انکوائری کے نتائج کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
یونس خان نے نیشنل کرائمز اینڈ کرپشن انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو چاہیے کہ وہ متعلقہ قانونی اور انکوائری کے عمل کو فالو کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹرز کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں اس معاملے کی مکمل تفصیلات کا علم ہے، اس لیے اس مرحلے پر کسی بھی قسم کی حتمی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
سابق کپتان کے مطابق محمد رضوان کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ ایک آفیشل ٹور کے دوران سامنے آیا ہے، لہٰذا جب تک کیس کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آجاتا، اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔
واضح رہے کہ محمد رضوان کو 2 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے این سی سی آئی اے لاہور میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:رضوان کا این سی سی آئی اے کو ایک اور خط، موبائل فون واپس مانگ لیا
رضوان نے ادارے کو خط کے ذریعے جواب دیتے ہوئے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کی اورگزشتہ روز 2 اکتوبر کو انکوائری میں شامل ہونے کیلئے پیش ہوئے۔




