وفاقی آئینی عدالت نے مونال کیس سے متعلق سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے فیصلے کو مخصوص حدود تک کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں عدالتی اختیار کی حدود سے تجاوز کے باعث متاثرہ فریقین کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوئی۔
44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری
وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے مونال کیس کا 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کیس میں سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستیں منظور کرلی گئی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کا سابقہ نظرثانی فیصلہ بھی اپنی موجودہ شکل میں برقرار نہیں رہ سکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرول 2 روپے 10پیسے ، ڈیزل 30پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری
عدالت کے مطابق متاثرہ فریقین کو مؤثر سماعت کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر ان کے حقوق سے متعلق فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث عدالتی کارروائی کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
متاثرہ فریقین کو سنے بغیر فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا
تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اعلیٰ ترین عدالت کا فیصلہ بھی ایسے متاثرہ فریقین کے خلاف برقرار نہیں رکھا جاسکتا جنہیں مؤثر طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہ دیا گیا ہو۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ متعلقہ حالات میں سپریم کورٹ کو مونال کیس کی سماعت سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ فیصلے کے مطابق عدالتی نتائج ذاتی معلومات یا ذاتی مشاہدات کے بجائے دستیاب ریکارڈ، شواہد اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر مرتب ہونے چاہییں۔
ذاتی تعلقات اور سیاسی وابستگیوں کے مشاہدات حذف
عدالت نے سابق فیصلے میں فریقین کے ذاتی تعلقات اور سیاسی وابستگیوں سے متعلق کیے گئے مشاہدات بھی حذف کردیے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی مقدمے میں عدالتی نتیجہ متعلقہ ریکارڈ اور قابلِ قبول شواہد کی بنیاد پر اخذ کیا جانا چاہیے، جبکہ ذاتی نوعیت کے مشاہدات کو قانونی فیصلے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔
ریسٹورنٹس کو آتشزدگی کا سبب قرار دینے پر اہم رائے
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مارگلہ ہلز میں آتشزدگی کا سبب ریسٹورنٹس کو قرار دینے سے متعلق مشاہدہ دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
عدالت نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ متنازع حقائق کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں ریسٹورنٹس پر مکمل اور مطلق پابندی متعلقہ قانونی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔
عدالت کے مطابق اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کسی مخصوص تعمیر یا سرگرمی سے نیشنل پارک کے بنیادی مقصد اور ماحولیاتی تحفظ کو نقصان پہنچ رہا ہے یا نہیں۔
نیشنل پارک میں سہولتیں قانونی شرائط سے مشروط
تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیشنل پارک میں عوامی سہولتوں کی اجازت ماحولیاتی تحفظ اور متعلقہ قانونی شرائط کی پابندی سے مشروط ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی منظوری کسی ایسی سرگرمی کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی جو ماحولیاتی قوانین کے تحت ممنوع ہو۔
مونال کی زمین کی ملکیت، لیز اور کرائے سے متعلق تنازعات کے بارے میں عدالت نے قرار دیا کہ ان معاملات کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر متعلقہ سول عدالت کرے گی۔
کرائے سے متعلق وائلڈ لائف بورڈ کا اختیار ختم
وفاقی آئینی عدالت نے وائلڈ لائف بورڈ کو مونال سے کرایہ وصول کرنے کا حق دینے سے متعلق سابق عدالتی ہدایت بھی کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے حکم دیا کہ وائلڈ لائف بورڈ کی جانب سے وصول کیا گیا یا نکلوایا گیا کرایہ فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ سول مقدمات کو یکجا کرکے وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا جائے، جبکہ سول عدالتیں سابق عدالتی مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا میرٹ اور قانون کے مطابق جلد فیصلہ کریں۔
سول عدالتیں مقدمات کا میرٹ پر فیصلہ کریں گی
عدالت نے متاثرہ فریقین کو متعلقہ سول عدالت میں عبوری ریلیف کے لیے نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
فیصلے کے مطابق زیرِ التوا انٹرا کورٹ اپیلوں کا فیصلہ ان کے میرٹ اور قانون کے مطابق الگ سے کیا جائے گا۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کا 21 اگست 2024 کا فیصلہ بیان کردہ حدود تک کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پیرسوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا حکم کالعدم قرار
یوں مونال کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد مقدمے سے متعلق متعدد قانونی اور انتظامی معاملات دوبارہ متعلقہ سول عدالتوں کے سامنے زیرِ غور آئیں گے، جہاں ملکیت، لیز، کرایے اور دیگر متنازع امور کا فیصلہ دستیاب شواہد اور متعلقہ قانون کی روشنی میں کیا جائے گا۔




