وسیم گیلانی

نیلم ،وسیم گیلانی کی زیر صدارت عدلیہ وانتظامیہ کی مشترکہ ماہانہ میٹنگ

نیلم ( کشمیر ڈیجیٹل)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نیلم سید وسیم احمد گیلانی کی زیر صدارت عدلیہ و انتظامیہ کی مشترکہ ماہانہ میٹنگ منعقد ہوئی۔

ماہانہ میٹنگ میں عبدالشکورمہروی ضلع قاضی نیلم ، چوہدری اقبال حسن ڈپٹی کمشنر نیلم، راجہ ندیم عارف ایس پی نیلم، سردار سجاد احمد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نیلم ، راجہ صغیراحمد پی ڈی اسی پی نیلم ، تحصیل قاضی شاردہ نے شرکت کی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کہوٹہ:دربار حاجی سید ابراہیم بخاریؒ کی اراضی پیمائش، 5 مرلے پر مبینہ قبضے کی نشاندہی

میٹنگ میں گزشتہ اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ضلع نیلم میں عدالتی نظام، عوام کو درپیش مسائل اور مقدمات کی بروقت سماعت اور اندر معیاد یکسوئی کو زیر بحث لایا گیا۔

اجلاس میں واجب الاحترام عدالت عظمیٰ و عدالت عالیہ کی ہدایات کی روشنی میں مقدمات کی جلد یکسوئی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ موضع لالہ و محلہ اٹھئی کی گاڑیاں غلط راستہ اختیار کرتے ہوئے اصل سڑک چھوڑ کر عدالتی حدود سے گزرتی ہیں جس سے عدالتی امورمیں خلل پڑتا ہے اور سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جس باعث یہ طے پایا کہ عدالتی حدود کے آغاز پر بیریئر نصب کیا جائے گا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نیلم نے ڈپٹی کمشنر نیلم کو بخشی خانہ کیلئے موزوں جگہ کی نشاندہی کرنے اور بعد ازاں اس ضمن میں حکومت کو تحریک کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ قیدیوں کے کھانے پینے کے معیار میں بہتری کیلئے مزید فنڈزکیلئے حکومت کو تحریک کی جائے۔

اجلاس میں قیدیوں کے ہفتہ وار طبی معائنہ کو یقینی بنانے ،اس نسبت ماہوار رپورٹ پیش کرنے اور فوجداری مقدمات میں میڈیکل رپورٹس بروقت تیار کرکے ارسال کرنے کی نسبت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر یقین د ہانی کروائی۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عدالت میں لیڈی کانسٹیبلان کی تعیناتی ضروری ہے، تاکہ عدالتی امور کی انجام دہی اور سکیورٹی کے مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوران اجلاس یہ امر بھی زیر بحث لایا گیا کہ جوڈیشل گیسٹ ہاؤس کیلئے موجودہ جگہ موزوں نہ ہے جس کیلئے متبادل جگہ اپر نیلم یا آٹھمقام منتخب کی جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم آزاد کشمیر کے استقبال کی تیاریاں، فاتح محمود کی کارکنوں سے شرکت کی اپیل

نیز عدالت سول جج شاردہ میں پبلک پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث مقدمات کے التواء کا شکار ہونے کے معاملہ پر متعلقہ حکام کو پبلک پراسیکیوٹر کی تعیناتی کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی، تاکہ زیرِ التوا مقدمات کی بروقت سماعت اور یکسوئی ممکن ہو سکے۔