کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نوجوان کو کرائم اسٹوری کی اسکرپٹنگ کے لیے اے آئی سے مدد لینا مہنگا پڑ گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نوجوان نے مبینہ طور پر باپ کی توہین کے خلاف کارروائی کے لیے اے آئی سے مدد مانگی جس نے نوجوان کے مشکوک سوالات کو خلاف ورزی مانتے ہوئے سرگرمیوں کی اطلاع امریکی ادارے ایف بی آئی کو دے دی۔
یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی۔6’’آسٹرا‘‘متعارف کرانے کا دعویٰ
ایف بی آئی نے پاکستانی ایجنسی کو اطلاع کی، این سی سی آئی اے نے کارروائی کرکے ڈی ایچ اے سے نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ نوجوان کے والد کے ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ تحقیقات مکمل ہونے پر اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔
ایف بی آئی کی این سی سی آئی اے کی رپورٹ دی کہ نوجوان ایک پولیس اہلکار کی قتل کی منصوبہ بندی کررہا ہے جس نے مبینہ طور اس کے والد سے بدتمیزی کی ہے جبکہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ 23 ستمبر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پنجاب نے ایک کارروائی کے دوران بہاولپور سے 17 سالہ طالب علم کو گرفتار کیا تھا جس نے اپنے باپ کو قتل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا تھا۔
این سی سی آئی اے کو بیرون ملک سے خفیہ انٹیلی جنس اطلاع موصول ہوئی تھی جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ٹیموں نے بہاولپور سے ملزم کو حراست میں لیا۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک : طلباء کے اے آئی استعمال پر ایک سال کیلئے پابندی عائد
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشہور امریکی کرائم ڈرامہ سیریز بریکنگ بیڈ (Breaking Bad) سے متاثر ہو کر ملزم نے گھر کے اندر ہی ایک خفیہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی۔
ملزم نے زہر تیار کرنے کے لیے کیمیائی مواد آسٹریلیا اور اسلام آباد کے مختلف ذرائع سے آن لائن منگوایا تھا۔




