’’انکل کو بوڑھا ہونے تک جیل میں رکھا جائے‘‘متاثرہ بچی کے مطالبہ پر جج نے تاریخی فیصلہ سنا دیا

بھارت کی دہلی ہائی کورٹ میں 10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے ہولناک واقعے کے کیس نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ عدالت نے بھی مجرم کو تاریخی سزا سنا دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 7سال کی عمر میں زیادتی کا شکار ہونے والی بچی نے عدالت سے کہا تھا کہ جس شخص کو وہ انکل کہتی تھی، اسے اس وقت تک جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے۔

عدالت نے آپ کی بات سن لی، زندگی آگے بڑھائیں،جج کا بچی کو پیغام

روہنی کی خصوصی پوکسو عدالت کی جج رجنی رنگا نے سفاک مجرم کو عمر قید سزا سناتے ہوئے زیادتی کی شکار معصوم بچی کے نام ایک ذاتی پیغام بھی لکھا۔

جج نے بچی کو ایک بہادر فرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کی بات سنی اور آپ کی درخواست منظور کرلی۔ وہ مجرم اب ساری عمر پنجرے میں قید رہے گا۔

بچی کے نام اپنے پیغام میں جج نے کہا کہ آپ بھی اپنی زندگی آگے بڑھائیں، اسکول جائیں، دوست بنائیں، کھیلیں اور اپنے خواب پورے کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں پاکستانی شہری کو دہشتگردی جرائم پر سزائے موت

دہلی ہائی کورٹ نے شمال مغربی دہلی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ جج کا یہ پیغام پرنٹ کرکے بچی یا اس کے اہل خانہ تک دو ہفتوں میں پہنچایا جائے اور ساتھ ہی معاوضے کی رقم بھی دلوائی جائے۔

دہلی ہائی کورٹ کی عدالت نے 22 ستمبر کے حکم میں بتایا کہ متاثرہ بچی کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔

مجرم کو آخری سانس تک قید رکھا جائے،ضمانت کی درخواست مسترد

مجرم سمیت شکایت کنندہ کی اپیل پر عدالت نے سزا معطل کرکے فوری ضمانت دینے سے بھی انکار کردیا۔

عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد اور فرانزک ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے اس مرحلے پر سزا معطل کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔ مجرم کو آخری سانس تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم کا نام سمت شکلا ہے۔ وہ بچی کا محلہ دار تھا بلکہ اور بچی اسے انکل کہہ کر پکارتی تھی۔ عدالت کی رپورٹ میں اسے بچی کے ساتھ زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

واقعہ 23 جولائی 2023 کو دہلی میں پیش آیا تھا۔ اس وقت بچی کی عمر 7 سال تھی جبکہ اب وہ 10 سال کی ہے۔کیس بدھ وہار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور کارروائی بھارت کے پاسکو قانون کے تحت ہوئی۔