کوٹلی :سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا پھیلائو ،محکمہ اطلاعات نے بڑی بیٹھک بلا لی

کوٹلی(کشمیر ڈیجیٹل) سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز، گمراہ کن اطلاعات اور غیر مصدقہ مواد کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب کی روک تھام کیلئے محکمہ اطلاعات کی میزبانی میں مقامی ہوٹل میں صحافتی برادری کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ معاشرے میں غلط اور غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صحافیوں، محکمہ اطلاعات، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافتی برادری اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فیک نیوز اور گمراہ کن مواد کی نشاندہی، تصدیق اور تردید کے عمل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

شرکاء نے کہا کہ کسی بھی خبر یا دعوے کو آگے بڑھانے سے قبل اس کے ماخذ اور صداقت کی جانچ پڑتال صحافتی ذمہ داری کا بنیادی تقاضا ہے۔

سرکاری اداروں کو بھی حساس نوعیت کے معاملات پر بروقت اور مستند معلومات فراہم کرنے کیلئے مؤثر رابطہ نظام قائم کرنا ہوگا۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ فیک نیوز کے تدارک اور حقائق پر مبنی معلومات کی فراہمی کیلئے کاؤنٹر نیریٹو کمیٹی یا ٹاسک فورس قائم کی جائے جس میں صحافیوں کیساتھ سوشل میڈیا سے وابستہ ذمہ دار افراد، سماجی کارکنوں اور دیگر صاحب الرائے افراد کو بھی شامل کیا جائے۔

اس کمیٹی کا مقصد کسی مخصوص رائے کی ترویج کے بجائے غلط اطلاعات کی نشاندہی، حقائق کی تصدیق اور عوام تک مستند معلومات کی بروقت رسائی کو یقینی بنانا ہو۔

صحافیوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک مؤثر ابلاغی ذریعہ ہے، تاہم جعلی آئی ڈیز، غیر مصدقہ واٹس ایپ پیغامات، ایڈیٹ شدہ مواد اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پھیلائی جانے والی معلومات بعض اوقات معاشرتی مسائل اور بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: ویسٹرن بائی پاس پر مزدا بے قابو، چار گاڑیاں تباہ، 6 افراد زخمی

اس سلسلے میں قانون اور ضابطے کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر کارروائی، ڈیجیٹل آگاہی اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں آن لائن مواد سے متعلق قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک بھی موجود ہے، جس میں غیر قانونی آن لائن مواد، کسی دوسرے شخص کی شناخت اختیار کرنے اور عوامی نظم و سلامتی کو متاثر کرنے والے مواد سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

اجلاس میں راجہ طالب نے تجویز پیش کی کہ فیک نیوز کے خلاف عملی حکمت عملی مرتب کرنے سے قبل صحافتی برادری، انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی باقاعدہ نشستیں منعقد کی جائیں تاکہ مسئلے کی نوعیت، جعلی آئی ڈیز کے استعمال اور غیر مصدقہ مواد کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کو سمجھ کر مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے فیک نیوز کی فوری نشاندہی اور متعلقہ اداروں تک اطلاع رسانی کے لیے صحافیوں کا ایک باقاعدہ واٹس ایپ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔شرکاء نے کہا کہ جعلی اطلاعات کے ساتھ ساتھ بعض اوقات صحافیوں کی کردار کشی اور ان کے خلاف سوشل میڈیا مہمات بھی چلائی جاتی ہیں، جس پر انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی بروقت توجہ ضروری ہے۔

اینکر و صحافی شہزاد راٹھور نے تجویز دی کہ فیک نیوز اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کیلئے باقاعدہ کاؤنٹر نیریٹو ٹاسک فورس تشکیل دی جائے، جس میں صحافیوں کے ساتھ سوشل ایکٹیوسٹس اور دیگر متعلقہ افراد کو شامل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی خبر کی تردید کرتے وقت بھی صحافتی اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے تاکہ تردید خود کسی نئے تنازع یا غلط فہمی کا سبب نہ بنے

۔انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کے خلاف مؤثر کام کے لیے ضلعی سطح کیساتھ تحصیل سطح پر بھی صحافتی نمائندگی یقینی بنائی جائے اور ضلع کی تمام تحصیلوں سے صحافیوں کو اس مشاورتی فورم میں شامل کیا جائے، تاکہ اطلاعات کے تبادلے اور حقائق کی تصدیق کا نظام زیادہ مؤثر اور وسیع ہو سکے۔

سید ساجد الرب نے کہا کہ معاشرے میں بعض معاملات پر صاحب الرائے اور پڑھے لکھے افراد اختلاف یا تنازع کے خدشے کے باعث اپنی رائے کے اظہار سے گریز کرنے لگے ہیں، اس لئے ایسے افراد کو اعتماد میں لے کر مشاورتی عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ فیک نیوز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود صحافتی اور ادارہ جاتی فورمز کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی،81کنال اراضی تنازعہ شدت اختیار کرگیا، علاقے میں بڑے تصادم کا خطرہ

اجلاس میں محکمہ اطلاعات، ضلعی انتظامیہ اور صحافتی برادری کے درمیان رابطہ کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئیجو حساس نوعیت کے معاملات پر فوری رابطے، معلومات کی تصدیق اور بروقت وضاحت کیلئے کردار ادا کرے۔

شرکاء نے کہا کہ دیگر تحصیلوں کے صحافیوں کو اس رابطہ نظام میں شامل کرتے ہوئے ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق بھی مرتب کیا جا سکتا ہے تاکہ فیک نیوز کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کو فروغ دیا جائے۔

شرکاء نے یہ بھی تجویز دی کہ ایسے مشاورتی اجلاس محض ایک مرتبہ منعقد کرنے کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں، جن میں فیک نیوز، سوشل میڈیا کے رجحانات، صحافیوں کو درپیش مسائل، سرکاری اداروں سے رابطے اور عوام تک مستند معلومات کی فراہمی کا جائزہ لیا جائے۔

اس مقصد کے لیے اجلاس کے فیصلوں اور سفارشات کو تحریری شکل دینے اور آئندہ کے لیے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صحافیوں کو کسی بھی غیر مصدقہ خبر، ویڈیو، آڈیو، تصویر یا سوشل میڈیا پوسٹ کو نشر یا شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔

اسی طرح سرکاری اداروں کو بھی اہم اور حساس معاملات پر بروقت حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ اطلاعات کے خلا کو غیر مصدقہ ذرائع سے پُر ہونے کا موقع نہ ملے۔ محکمہ اطلاعات کے سرکاری کردار میں بھی پریس ریلیز، وضاحتیں، میڈیا رابطہ اور سرکاری معلومات کی بروقت ترسیل شامل ہیں۔

شرکاء نے آزاد جموں و کشمیر پریس فاؤنڈیشن کو بھی صحافیوں کے پیشہ ورانہ اور حفاظتی مسائل کے حوالے سے مزید مؤثر اور فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فیک نیوز کے خلاف جدوجہد کسی ایک ادارے یا شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ صحافیوں، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، وکلا، ماہرین اور صاحب الرائے شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس مقصد کیلئے مشاورتی عمل کو ضلع سے تحصیل کی سطح تک وسعت دینے، رابطہ کمیٹی اور کاؤنٹر نیریٹو فورم کے قیام، باقاعدہ اجلاسوں کے انعقاد اور صحافیوں کے لیے مؤثر رابطہ و معلوماتی نظام تشکیل دینے کی سفارشات کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں صدر پریس کلب شاہنواز بٹ ،سیکرٹری محمد رضوان قریشی ،سید ساجد الرب،شہزاد راٹھور ،بشیر بیگ،انصر بیگ،عامر کھوکھر،ذولفقار ڈوگرہ،یاسر حسن،شاہ حسین،عمر بٹ،محمد آصف ملک ،عتیق ملک،راجہ نثار اعظم ،راجہ طالب،منظر بشیر،عامر یاسر،فیصل منیر شریک ہوئے ۔آخر میں ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر شوکت علی ملک نے شرکا اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔