نیلم(کشمیر ڈیجٹل نیوز) محکمہ سیاحت کو سیاحتی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے کیل سیری ثمہ کے مقام پر الاٹ کی گئی 81 کنال اراضی کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔
75 سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں آباد مقامی خاندانوں کا محکمہ سیاحت کی جانب سے اراضی کے حصول اور مبینہ بے دخلی کے نوٹسز پر شدید احتجاج۔
متاثرین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت اپنی آبائی رہائش گاہیں، مکانات، دکانیں اور کاروباری مراکز چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔
کیل سیری ثمہ کے مقام پر شاہراہِ نیلم کے کنارے سینکڑوں خواتین، مردوں اور بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت آزاد کشمیر اور محکمہ سیاحت کے خلاف شدید نعرے بازی ۔
متاثرین نے وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کیل سیری سے ملحقہ علاقے ثمہ سیری کی 81 کنال اراضی محکمہ سیاحت کو الاٹ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور مقامی آبادی کو بے دخلی کے نوٹسز سے نجات دلائی جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے اس علاقے میں آباد ہیں، ان کے مکانات، دکانیں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر کاروباری و رہائشی تعمیرات موجود ہیں اور ان کا معاشی و سماجی نظام اسی زمین سے وابستہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی محرومیوں کا ازالہ کرینگے، افسران گڈگورننس برقرار رکھیں،وزیراعظم گیلانی
ایسے میں انہیں اراضی سے بے دخل کرنا صرف گھروں سے محرومی نہیں بلکہ ان کے معاشی مستقبل کو بھی شدید متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ محکمہ سیاحت کو مقامی آبادی کی زیرِ تصرف اراضی کی الاٹمنٹ اہل علاقہ کا معاشی قتل اور شہریوں کو ذلیل و خوار کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ 30 سے زائد خاندانوں کو کسی صورت بے گھر نہیں ہونے دیا جائے گا اور سیاحتی کمپلیکس کی تعمیر کی صورت میں مقامی شہریوں کے طویل عرصے سے قائم قبضے، مکانات اور کاروبار متاثر ہوں گے۔
مظاہرین نے کہا کہ لائن آف کنٹرول سے متصل علاقے میں رہنے والے لوگوں نے دہائیوں سے مشکل حالات میں زندگی گزاری اور وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے والے خاندانوں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان کی رہائش اور ذریعہ معاش چھیننا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر مذکورہ مقام پر سیاحتی منصوبہ حکومت کے لیے ناگزیر ہے تو متاثرہ خاندانوں کے لیے 81 کنال کے مساوی متبادل اراضی فراہم کی جائے، تاہم ایسی جگہ جہاں ان کے مکانات، کاروبار اور معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
مظاہرین نے کہا کہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے دیگر متعدد مقامات کو بھی استعمال کر سکتی ہے، جن میں بابون، رتی گلی، بابوسر ٹاپ، کالے جندر، گریس، شونٹھر اور مائی نادرہ جھیل سمیت دیگر مقامات شامل ہیں۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ سیاحت کے فروغ یا ترقیاتی منصوبوں کے اصولی طور پر مخالف نہیں، تاہم ترقی کے نام پر دہائیوں سے آباد مقامی خاندانوں کو بے دخل کرنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاحتی منصوبہ بندی میں مقامی آبادی کے حقوق، رہائش، کاروبار اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل حل تلاش کیا جائے۔
احتجاج کے دوران بعض مقررین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے طاقت کے ذریعے بے دخلی کی کوشش کی تو صورتحال مزید کشیدہ ہوسکتی ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے گھروں اور اراضی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے اور احتجاج کا دائرہ شاہراہِ نیلم سے بڑھا کر مظفرآباد اور اسلام آباد تک لے جانے پر بھی غور کریں گے۔۔
مقررین نے کہا کہ 81 کنال اراضی کے دفاع کے لیے اگر 30 خاندانوں کو بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قربانی دینا پڑی تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مذاکرات کئےجائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف عوامی نفرت بڑھنے لگی، سخت کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے دخلی کے نوٹسز واپس لیے جائیں اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے۔
احتجاجی مظاہرے سے یوتھ کونسلر شاردہ چودھری نشاط، سردار منظور، اخبار اللہ، علی اصغر، محمد فاضل، ساجد اقبال، جمیل احمد، مقصود احمد، محمد صدیق، عامر خان، زفیر احمد اور دیگر خواتین و مرد مقررین نے خطاب کیا۔
یوتھ کونسلر شاردہ چودھری نشاط نے کہا کہ کیل سیری ثمہ کے متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات اور باہمی مشاورت کا راستہ اختیار کرے۔
مظاہرین نے وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، ممبر اسمبلی شاہ غلام قادر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔
احتجاجی مظاہرین نے واضح کیا کہ 81 کنال اراضی کی الاٹمنٹ کا ازسرنو جائزہ لیں اور مقامی آبادی کو بے دخلی سے تحفظ فراہم کریں۔
انہوں نےکہا کہ سیاحت کا فروغ اپنی جگہ، مگر مقامی آبادی کی قیمت پر سیاحتی منصوبہ قابل قبول نہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا کہ حقوق اور دہائیوں پر محیط آبادکاری کو تسلیم کرتے ہوئے ایسا حل نکالا جائے جس سے سیاحت بھی فروغ پائے اور مقامی خاندان بھی اپنے گھروں اور روزگار سے محروم نہ ہوں۔




