مظفرآباد، وادی لیپا(کشمیر ڈیجیٹل ، نمائندگان)آزادکشمیر بھر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف عوامی نفرت بڑھنے لگی، عوامی حلقوں نے حکومت سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی میں مبینہ طور پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو آزاد کشمیر میں انتشار پیدا کر رہے ہیں۔
حکومت ایسے افراد کو کمیٹی سے الگ کرے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
شہریوں کے مطابق امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسکائوٹس مقابلے،یونیورسٹی آف حویلی کے طلباء نے ریاستی سطح پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے
کالعدم ایکشن کمیٹی کے حوالے سے بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کارکنوں کو منظم اور تربیت دے کر علاقے میں بدامنی اور انتشار کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال اور احتجاج کیوجہ سے آزاد کشمیر کے عوام،تاجر، طلباء، عام شہریوں سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد شدید اضرابی کیفیت کا شکار ہیں۔۔
طلباء وطالبات کا مستقبل مخدوش، انٹرنیٹ بند، کال بند، تجارت بند ، معاشی سرگرمیاں ختم، لوگ کھانے پینے کی اشیاء کو ترس گئے ، بچے تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر حکومت کا بلدیاتی نظام لانے پر غور، الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
حکومت آزادکشمیر فوری ایکشن لیتے ہوئے سردار عمر نذیر کشمیری، سردار امان، خواجہ مہران اور خواجہ مجتبیٰ بانڈے کو فوری گرفتار کرے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کمیٹی کے سرکردہ رہنمائوں کیخلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آزادکشمیر کے پرامن خطے میں امن قائم ہوسکے ۔
وادی لیپا کی عوام نے بھی عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا موجودہ بیانیہ مسترد کر دیا ۔آئے روز لوگ کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں۔تین چار ماہ سے جاری احتجاج کی وجہ سے عوام کا بہت نقصان ہوا ۔




