اسلام آباد: صدرِ استحکامِ پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی سربراہی میں استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز اور مرکزی رہنماؤں کے اہم اجلاس نے آزادکشمیر میں حالیہ انتخابی عمل، پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر انتخابات نہ ہونے، انتخابی حلقوں میں دھاندلی، حکومتی مشینری کے ناجائز استعمال، وفاقی حکومت کی غیر ضروری مداخلت اور دیگر حل طلب ریاستی و سیاسی معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کی بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد کردی ہے۔
اجلاس میں چیئرمین آئی پی پی عبدالعلیم خان اور صدر آئی پی پی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سردار تنویر الیاس کے دور میں منظور شدہ مہاجر کیمپ پل کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آزادکشمیر کو سیاسی تجربہ گاہ بنانے، عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور ریاست کے آئینی و جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں کی جائیگی۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر انتخابات نہ ہونے، عجلت میں حکومت سازی کرنے، صدرِ ریاست کے انتخاب نہ کرائے جانے، مخصوص نشستوں اور انتخابی عمل سے متعلق دیگر معاملات کا آئینی و قانونی جائزہ لے کر ضرورت پڑنے پر انہیں عدالتوں اور متعلقہ قانونی فورمز پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس سردار پلازہ، بلیو ایریا اسلام آباد میں صدر آئی پی پی آزاد جموں و کشمیر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جبکہ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر انصر عبدالی نے اجلاس کی کارروائی چلائی۔
اجلاس میں سابق وزیر حکومت علی شان سونی ، سابق وزیر حکومت طاہر کھوکھر، سابق وزیر صبیحہ صادق، سابق وزیر حکومت تقدیس گیلانی، سابق مشیر حکومت کرنل ریٹائرڈ معروف، سابق مشیر صدارتی امور سردار عنایت اللہ عارف سمیت آئی پی پی آزادکشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز، مرکزی و ریاستی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور حالیہ سیاسی و انتخابی صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔
اجلاس کے شرکاء نے آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی، مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی سیاسی مداخلت، حکومتی مشینری کے غیر قانونی استعمال اور الیکشن کمیشن کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات محض سیاسی جماعتوں کا معاملہ نہیں بلکہ آزادکشمیر میں جمہوری نظام، عوامی اعتماد اور ریاستی اداروں کی ساکھ سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ 1975ء کے انتخابات کی تاریخ ایک بار پھر دہرائے جانے کا تاثر انتہائی تشویشناک ہے اور موجودہ صورتحال نے عوام میں بے یقینی، اضطراب اور سیاسی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
اجلاس نے اس امر پر زور دیا کہ یہ وقت سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے ریاستی مفاد، جمہوری روایات کے تحفظ اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے احترام کا ہے۔
شرکاء اجلاس نے کہا کہ وفاقی حکومت کو آزادکشمیر کے انتخابات اور دیگر دیرینہ و حل طلب ریاستی معاملات پر پیدا ہونے والے موجودہ بحران کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی کوششوں کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی حکمت عملی نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔
آئی پی پی آزادکشمیر کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ریاستی معاملات میں غیر شفاف سیاسی طرزِ عمل سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کے اثرات آزادکشمیر کی سیاسی و جمہوری حیثیت کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کے کردار پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج ہمارا فخر: کشمیری عوام تکمیل پاکستان تک جدوجہد جاری رکھیں گے ، سردار تنویر الیاس
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات نشستوں پر انتخابات نہ کروائے جانے، عجلت میں حکومت سازی، صدرِ ریاست کے انتخاب، مخصوص نشستوں کی تقسیم، انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور دیگر متنازع اقدامات سمیت تمام معاملات کا مکمل آئینی و قانونی جائزہ لیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی اور جہاں ضروری سمجھا گیا وہاں متعلقہ عدالتوں اور قانونی فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔
آئی پی پی آزادکشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی تحریک آزادی کشمیر، ریاستی تشخص، آئینی حقوق، جمہوری روایات اور بیس کیمپ کے تاریخی کردار کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ آزادکشمیر کے عوام کے سیاسی حقوق اور ان کے ووٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پارٹی آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہر سطح پر اپنا مؤقف اجاگر کرے گی۔
اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ ہونے والی مشاورت، کشمیر کے سیاسی فیصلے کشمیر میں کیے جانے کے اصول اور پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اس موقع پر مرکزی قیادت کے بعض فیصلوں اور طرزِ عمل کے حوالے سے رہنماؤں نے اپنے تحفظات کھل کر پیش کیے، جبکہ باہمی مشاورت کے ذریعے آئندہ کے لیے واضح، راست اور ٹھوس سیاسی اقدامات اٹھانے پر بھی غور کیا گیا۔
شرکاء اجلاس نے ریاستی اور مہاجرینِ کشمیر کی نشستوں پر آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ آزادکشمیر کے عوام کو ایسا انتخابی نظام درکار ہے جس میں ہر امیدوار اور ہر جماعت کو یکساں مواقع میسر ہوں اور کسی بھی قسم کی مداخلت یا بے ضابطگی کی گنجائش نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:اس سے بہتر ہے براہ راست سلیکشن کر لی جائے،استحکام پاکستان پارٹی
اجلاس میں پارٹی کی گزشتہ سیاسی حکمت عملی اور بعض سیاسی کوتاہیوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور رہنماؤں نے اپنی بعض خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئی پی پی آزادکشمیر کو ریاست بھر میں مزید مضبوط، منظم اور فعال بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
ان تجاویز پر تفصیلی غور کے بعد تنظیمی استحکام، سیاسی فعالیت اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں آئی پی پی کے آزادکشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز تسلیم انجم راجہ، تیمور فاروق، افتخار حسین، راجہ عرفان، ملک ذوالفقار، طاہر فرید، راجہ طالب،، اعجاز کھٹانہ، سردار شہزاد عزیز، سردار بلال شکیل ایڈووکیٹ، سردار رئیس انقلابی، ثقلین فدا کاظمی، جبار مغل، عبدالجبّار چوہدری، بلال مختار بٹ، ادیب امجد بٹ، اور حمزہ مجید بزمی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر جموں حلقہ نمبر 2 سے عبدالقدیر خان کے چچا کی وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔




