نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث آنے والے خوفناک فلیش فلڈ کے بعد 800 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ حکام نے بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کا بہت بڑا سیلاپ متعدد آبادیوں کو بہا کر لے جا رہا ہے۔
اس قدرتی آفت کے نتیجے میں سڑکیں، پل اور پاور اسٹیشنز شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ کئی مکانات اور پورے کے پورے گاؤں پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے ہیں۔ بہت سے زخمی افراد مختلف ہیلتھ پوسٹس اور مقامی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جبکہ شدید زخمیوں کو کاٹھمنڈو کے مختلف ہسپتالوں منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرین کے لواحقین اپنے پیاروں کی خبر حاصل کرنے کے لیے شدید اضطراب کی حالت میں انتظار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں تھا ، امریکی ادارے کی وضاحت سامنے آ گئی
متاثرہ علاقوں سے بی بی سی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں بجلی، سڑکوں کی رسائی اور انٹرنیٹ کی سہولت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ رات کے اندھیرے میں لوگوں کی تلاش اور مدد کی فراہمی کے لیے نائٹ ویژن ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع دھنچے (Dhunche) اور نوواکوٹ (Nuwakot) کو بیس بنا کر ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
حکام کی تمام تر توجہ زندہ بچ جانے والے افراد کو نکالنے پر مرکز ہے، اور اسی سلسلے میں امدادی سامان سے بھرے 5 ٹرک پہلے ہی روانہ کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید امداد بھی بھیجی جا رہی ہے۔ اس کٹھن وقت میں ریاست ہائے متحدہ امریکا، چین، یورپی یونین اور بھارت نے بھی نیپال کو امداد کی پیشکش کی ہے۔
نیپال میں گلیشیئر دھنسنے کی وجہ سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر اور انسانی آبادیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ 800 سے زائد لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے نائٹ ویژن ہیلی کاپٹرز اور زمینی بیسز کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔




