بلوچستان

بلوچستان پر حکومت کا بڑا پلان، گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دے دی

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا، اسے پیچھے چھوڑ کر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔

بندوق کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں

وزیراعظم نے واضح کیا کہ مسائل کے حل کیلئے بات چیت اور مشاورت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، تاہم بندوق اٹھانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں، انہیں قومی دھارے میں خوش آمدید کہنا چاہیے۔

بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی سے جڑی ہے

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبے کو مل کر مسائل حل کرنا ہوں گے جبکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور باہمی مشاورت اس عمل کی بنیاد ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان کے عوام اور کاروباری طبقے کی جائز شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے شناخت یا پیشے کی بنیاد پر کسی شہری کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

دہشت گردی ترقی کی راہ میں رکاوٹ

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے فتنۃ الخوارج اور دشمن عناصر سے وسائل حاصل کرنیوالے گروہ موجود ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ان عناصر کیخلاف کارروائیاں کررہے ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں دیکر عوام کو محفوظ بنا رہے ہیں۔

شہباز شریف کے مطابق بدامنی کے باعث صوبے میں تعلیم، ہنرمندی اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ سرمایہ کاری کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بہتر صورتحال ہی بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی بنیاد بن سکتی ہے۔

این-25 شاہراہ کیلئے 415 ارب روپے

وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کی تعمیر پر کام کیا جارہا ہے۔ منصوبے کے لیے وفاقی حکومت نے 415 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے مزید وسائل فراہم کرنے میں بھی وفاق پیچھے نہیں ہٹے گا۔ کوئٹہ، چمن شاہراہ کے منصوبے کیلئے مزید 100 یا 200 ارب روپے فراہم کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی گئی۔

گوادر اور زرعی ٹیوب ویلوں کے منصوبے

شہباز شریف نے گوادر پورٹ کو خطے کی اہم بندرگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ چین کی جانب سے پاکستان کے لیے اہم تحفہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے 22 ہزار زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 70 ارب روپے خرچ ہوئے، جس میں وفاق نے 40 ارب روپے فراہم کیے۔

تعلیم اور نوجوانوں کے لیے اقدامات

وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم کے پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔ ہونہار طلبہ کے لیے صوبے کا حصہ آبادی کے تناسب سے 10 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش سکول بھی قائم کیے جارہے ہیں، جہاں پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

بلوچستان کیلئے این ایف سی فنڈنگ میں اضافہ

وزیراعظم کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے موقع پر وفاق نے بلوچستان کے لیے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا جبکہ پنجاب کی جانب سے بھی بلوچستان کو سالانہ 11 ارب روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی قومی ذمہ داری ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو مل کر صوبے کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔

گیس لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت

شہباز شریف نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کو کوئٹہ جاکر بلوچستان میں موسم سرما کے دوران گیس لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی شکایات کا ازالہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں

دوسری جانب آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی و سماجی قیادت نے ملاقاتیں کیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں بلوچستان میں امن و استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور صوبے کے انسانی و قدرتی وسائل کو عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے امور پر گفتگو ہوئی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دشمن عناصر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مثبت قومی مکالمے پر زور

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سماجی رہنماؤں کے امن، سماجی ہم آہنگی اور مثبت قومی مکالمے کے فروغ میں کردار کو سراہا۔

انہوں نے زور دیا کہ منفی پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کیا جائے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کیا جائے اور بلوچستان کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور عوام کی امنگوں کو اجاگر کیا جائے۔

ملاقات میں شریک شخصیات نے امن اور قومی یکجہتی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتوں کا منفی بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

متوسط طبقے کے سیاسی کردار کی ضرورت

بلوچستان میں امن اور ترقی کے لیے صوبے کے متوسط طبقے کے سیاسی کردار کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ صوبے کے کاروباری طبقے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھے اور امن کے قیام میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

سیکیورٹی فورسز اور پولیس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ مشترکہ آپریشنز کے دوران دونوں صوبوں میں 49 دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں، سیاسی قیادت، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کے مشترکہ کردار کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔

صوبے میں بسنے والی مختلف قومیتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بھی امن، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیر ریلوے حنیف عباسی کا وزیراعظم کی ہدایت پر 2 ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان