کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے نئے قانونِ شرطہ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت افغانستان کی حدود میں کسی بھی نوعیت کے مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نیا پولیس قانون جاری
افغان وزارت انصاف نے قانونِ شرطہ باضابطہ طور پر جاری کردیا ہے۔ نئے قانون میں پولیس کے مختلف شعبوں کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
کسی بھی قسم کے احتجاج کی اجازت نہیں
قانونِ شرطہ کی شق 50 میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کا مظاہرہ نہیں کیا جاسکے گا۔ اس پابندی کا اطلاق ملک بھر میں ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں پر ہوگا۔
پولیس فورس کا نام بھی تبدیل
یاد رہے کہ طالبان حکومت نے حال ہی میں اپنی پولیس فورس کا نام تبدیل کرکے ’شرطہ‘ رکھ دیا تھا۔ نئے قانون میں پولیس کے فرائض اور کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق بھی مختلف شقیں شامل کی گئی ہیں۔
زیر حراست افراد کے حقوق سے متعلق شقیں
قانون میں پولیس اہلکاروں کو گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن سے زیر حراست افراد یا ملزمان کی جسمانی صحت اور عزت نفس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
تشدد پر پابندی
قانونِ شرطہ کے مطابق کسی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مارنے یا تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ رپورٹ: طالبان حکومت کے دعوے مسترد، افغانستان کو علاقائی خطرہ قرار دیا گیا
قانون میں پولیس کارروائی کے دوران زیر حراست افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے بھی اصول وضع کیے گئے ہیں۔




