اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے کسانوں کو سرٹیفائیڈ اور معیاری بیجوں کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات اور ان پر عملدرآمد سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں زرعی پیداوار بڑھانے اور کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے مختلف اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
فی ایکڑ پیداوار بڑھانا حکومت کی ترجیح
شہباز شریف نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں پر زور دیا کہ وہ زرعی شعبے میں جدید اور جدت پر مبنی اصلاحات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
زرعی تربیت میں میرٹ یقینی بنانے کی ہدایت
وزیراعظم نے چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلبہ کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چین تربیت کے لیے بھیجے جانے والے طلبہ کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلوچستان پر حکومت کا بڑا پلان، گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دے دی
شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنانے اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی بھی ہدایت کی۔
گندم کی پیداوار سے متعلق جامع نظام بنانے کا فیصلہ
اجلاس میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی متوقع پیداوار کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد گندم کے حوالے سے ایک جامع نظام تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
ایگریکلچر انوویشن پلان پر کام تیز
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر عملدرآمد تیز کردیا گیا ہے۔ منصوبے میں کسانوں کیلئے مالی سہولیات، زرعی مشینری کی فراہمی، ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس اور الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ سمیت مختلف اقدامات شامل ہیں۔
فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔
زراعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے آٹومیشن پروجیکٹ اور سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام پر بھی کام جاری ہے۔ کیڑوں اور پودوں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ بھی تیار کی جارہی ہے۔
بلوچستان میں آرگینک زراعت کا منصوبہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ قومی آرگینک پالیسی اور معیارات مرتب کرنے، گروپ سرٹیفکیشن اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
کسانوں کی آمدن اور برآمدات بڑھانے پر توجہ
حکام کے مطابق مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے تحقیق، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔
نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کا نیا ماسٹر پلان
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت؛ وزیراعظم شہباز شریف کا پرجوش خیرمقدم
نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریز اور نئے تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کیلئے ریسرچ پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک بھی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔




