محسن رضائی

ٹرمپ کی پالیسیوں سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی خواہش بڑھی، محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق محسن رضائی کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ان ممالک میں یہ رجحان بڑھا ہے جنہوں نے دیکھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی رکنیت بھی امریکی حملوں کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

جوہری سلامتی کے بجائے عدم تحفظ پیدا ہوا

محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں جوہری سلامتی مضبوط ہونے کے بجائے عالمی سطح پر جوہری عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات قبول کیے، این پی ٹی کی رکنیت برقرار رکھی اور جوہری تنصیبات کے معائنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔ ان کے بقول ایران نے جوہری ضوابط کی پاسداری کے حوالے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تعاون کیا ہے۔

آج کا ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ جاری تنازع اور اپنے سفارتی طرزِ عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کی پوزیشن پہلے سے مختلف ہے اور ’آج کا ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں ہے‘۔

مزید یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی ملاقات،محسن رضائی نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دیدیا

محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حالیہ فوجی تقرریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران ہر وقت کسی ممکنہ جنگ کے لیے تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایرانی عوام میں امریکا کے تاثر میں تبدیلی

محسن رضائی کے مطابق ایرانی نوجوانوں کے ذہنوں میں امریکا کے ایک ’امن پسند‘ ملک ہونے کا تصور تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اب ٹرمپ کی پالیسیوں کو مختلف انداز میں دیکھ رہی ہے۔

اقتصادی پابندیوں پر دیگر ممالک کو دھمکی

ایرانی عہدیدار نے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات میں امریکا کا ساتھ دینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تو ایران اس کے مفادات کو جوابی کارروائی میں براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر خلیج فارس کے آس پاس موجود ممالک نے امریکی اقدامات کی حمایت کی تو ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات روکنے سمیت دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

نیتن یاہو سے متعلق بڑا دعویٰ

محسن رضائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف اقتصادی جنگ مسلط کرنے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آمادہ کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران صحیح معاہدہ کیلئے تیار نہیں، ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے،ٹرمپ

ان کے مطابق ٹرمپ ابتدا میں اس تجویز کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار تھے، تاہم نیتن یاہو نے انہیں مشورہ دیا کہ اس پالیسی کو پہلے دو سے تین ماہ آزمایا جائے اور بعد میں جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے کہ اسے مزید چھ ماہ تک جاری رکھا جائے یا نہیں۔