یو اے ای نے ایران کیساتھ تمام تجارتی،کاروباری اور مالی معاملات معطل کر دیئے

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی وکاروباری اورمالی معاملات تاحکم ثانی معطل کر دیئے۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یو اے ای میں پاکستانیوں  کے ویزوں کا معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا

اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کشیدگی علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

منگل کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی جانب 2 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک میزائل متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے اندر جبکہ دوسرا سمندری حدود سے باہر گرا۔

اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

یہ بیان ممکنہ میزائل خطرات کے حوالے سے جاری کیے گئے ایک مختصر فون الرٹ کے تقریباً دو گھنٹے بعد سامنے آیا تھا۔

وزارتِ دفاع نے تصدیق کی تھی کہ کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ اس نے ملک کی جانب آنے والے میزائلوں کا سراغ لگایا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے الرٹ میں کہا کہ موجودہ صورتحال اور ممکنہ میزائل خطرات کے پیش نظر فوری طور پر قریبی محفوظ عمارت میں محفوظ مقام پر چلے جائیں۔ یہ الرٹ کچھ ہی دیر بعد ختم کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات کیلئے رکھی گئی 60روزہ ڈیڈ لائن ختم ، مفاہمت کی یادداشت میں توسیع نہیں چاہتے، ٹرمپ

یہ جون میں جاری کیے گئے ایک غلط انتباہ اور جولائی میں ایک ایسے حملے کے حوالے سے جاری کیے گئے الرٹ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا انتباہ تھا، جو بالآخر متحدہ عرب امارات کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اس سے قبل آخری میزائل وارننگ مئی کے اوائل میں جاری کی گئی تھی۔

28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے وقت متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جب تقریباً 3,000 میزائل اور ڈرون ملک کی جانب بھیجے گئے، جو خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تھے۔