پاکستان تحریک انصاف نے ایران امریکا جنگ کے بعد یو اے ای میں ویزا نہ ملنے، ویزا ایکسپائر ہونے پر رینیو نہ ہونے اور پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھادیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا یو اے ای ہمارا دوست ملک ہے لیکن جو کچھ ہوا اس پر تحفظات ہیںجبکہ اسد قیصر نے کہا کہ بھارت اور امریکی پاسپورٹ والوں کو سفر کی اجازت دی جا رہی پاکستانیوں کو نہیں جس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ جب آپ کسی ملک میں رہ کر اسی کے خلاف فریق بنیں گے تو وہ ردعمل تو دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:یواے ای نے پاکستانیوں کیلئے وزت ویزے بحال کردیئے
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ یو اے ای ہمارا دوست ملک ہے لیکن امریکا، ایران کی صورتحال کے بعد جو ہوا اس پر کچھ تحفظات ہیں، جو کچھ بھی ہو رہا ہے پارلیمان کو اعتماد میں ضرور لیں، جن لوگوں کے ویزا ایکسپائر ہو گئے ان کے ویزا کو رینیو نہیں کیا جا رہا ہے ان مسائل کو ضرور دیکھیں۔
بیرسٹر گوہر کے یو اے ای ویزا والے اعتراض پر جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یو اے ای میں بارہ چودہ سال رہا ہوں، میں جانتا ہوں وہاں پاکستانیوں کے ساتھ جو ہورہا ہے، اسی نوے فیصد وہ لوگ ہیں جن لوگوں نے حالیہ جنگ میں فریق بننے کی کوشش کی۔
جب آپ کسی ملک میں رہ کر اسی کے خلاف فریق بنیں گے تو وہ ردعمل تو دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کی حقیقت کیا ہے؟ اماراتی حلقوں نے اہم وضاحت جاری کر دی
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یو اے ای ہمارا برادر ملک ہے اس کی ترقی میں پاکستانیوں کا بہت کردار ہے۔ جب حملہ ہوا میں سفر میں تھا وہاں ان کا ہمارے ساتھ رویہ مناسب نہیں تھا۔
صرف بھارت اور امریکا کے پاسپورٹ والوں کو سفر کی اجازت دی جا رہی تھی، پاکستانی قوم یو اے ای کی ترقی چاہتی ہے لیکن یہ معاملہ یو اے ای کے حکام سے اٹھایا جائے۔




