اگر کسی فرد کے مرحوم والد کے پاس دو شناختی کارڈ تھے اور اس وجہ سے بچوں کے شناختی کارڈ نہیں بن پا رہے ہیں، تو اس حوالے سے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تفصیلی رہنمائی فراہم کر دی ہے۔
ایک خاتون کی جانب سے نادرا سے سوال کیا گیا تھا کہ ان کے مرحوم والد نے دو شناختی کارڈ بنوا رکھے تھے جنہیں نادرا نے منسوخ کر دیا ہے، اور والد کا انتقال ہو جانے کی وجہ سے اب ان کا اپنا شناختی کارڈ بھی نہیں بن رہا، تو اس کا کیا حل ہے؟
نادرا کا مؤقف اور قانونی ضابطہ:
اس سوال کے جواب میں نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر سید شباہت علی نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی فرد نے دانستہ طور پر دو شناختی کارڈ بنوا رکھے ہوں تو وہ ایک قانونی جرم ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے ہر کیس میں جہاں کسی شہری کے دو شناختی کارڈ ہوں، نادرا دونوں کارڈز کو بلاک کر دیتا ہے کیونکہ نادرا کے پاس ایک جیسے دو چہرے لیکن الگ الگ ریکارڈ موجود ہوتے ہیں، اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا ریکارڈ درست ہے، اس لیے دونوں کارڈز بلاک کر دیے جاتے ہیں۔
مسئلے کا حل اور زونل بورڈ سے رجوع:
نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے متاثرہ خاتون کو اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والد کے دونوں شناختی کارڈ لے کر متعلقہ زونل بورڈ تشریف لے جائیں. زونل بورڈ کے حوالے سے معلومات کسی بھی متعلقہ نادرا سینٹر یا نادرا کی آفیشل ایپلیکیشن سے باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں.
یہ بھی پڑھیں: پلندری:صدر نجیب نقی کا والہانہ استقبال، عوام نے بائیکاٹ کی کال کو مسترد کر دی
متاثرہ شہری متعلقہ زونل بورڈ آفس جا کر اپنے مرحوم والد کے دونوں شناختی کارڈ پیش کریں اور وہاں کے حکام سے کہیں کہ ان کے والد کی لُک کو کلیئر کیا جائے، تاکہ جو معلومات درست ہوں انہیں برقرار رکھا جائے اور دوسرے کارڈ کی معلومات کو ختم کر دیا جا سکے. اس عمل کی بنیاد پر بچوں کا نیا کارڈ سسٹم میں سبمٹ ہو جائے گا.
ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی فراہمی اور پراسیسنگ:
اس کے بعد، یونین کونسل سے بنوایا گیا اپنے مرحوم والد کا اصل ڈیتھ سرٹیفکیٹ نادرا کے دفتر میں پیش کرنا ہوگا تاکہ والد کا اصل شناختی کارڈ باقاعدہ طور پر ختم کیا جا سکے. اس تمام قانونی کارروائی اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع کرانے کے بعد ہی بچوں کے اپنے شناختی کارڈ کی اصل پراسیسنگ کا آغاز ہو سکے گا.




