سرینگر((کشمیر ڈیجیٹل)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو آج گھر میں نظر بند کر دیا۔
انہیں سرینگر کی تاریخی درگاہ حضرت خواجہ نقشبند صاحب میں سالانہ ‘خواجہ ڈگر’ اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو کا آزادکشمیر الیکشن تنازعہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، میرواعظ عمر فاروق کے دفتر کی طرف سے سوشل میڈیاایکس پرجاری ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے میرواعظ اجتماع سے خطاب نہیں کرسکے۔
پوسٹ میں کہا گیاہے کہ “نقشبند صاحب کی درگاہ میں خوجہ ڈگر کے تاریخی سالانہ اجتماع سے قبل، میرواعظ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے، جس سے وہ تاریخی درگاہ میں روایتی خطاب اور وہاں نماز ادا کرنے سے محروم رہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر حکومت سازی ، مخصوص نشستوں پر الیکشن24،وزیراعظم کا انتخاب27اگست، شیڈول جاری
انجمن اوقاف جامع مسجد نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ میرواعظ سی پہر 4 بجے درگاہ میں خطاب کریں گے، اس کے بعد شام 5:30 بجے درگاہ میں اجتماعی نماز ادا کی جائے گی۔
حضرت خواجہ نقشبند صاحب کی درگاہ میں سالانہ ’’خوجہ ڈگر‘‘ اجتماع ایک دیرینہ روایت ہے جس میں مقبوضہ علاقے کے مختلف حصوں سے عقیدت مندبڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔




