مذاکرات

امریکا کے پاسداران انقلاب کے ساتھ خفیہ رابطے؟بڑا انکشاف آ گیا

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ جنگ بندی کیلئے ایرانی اعلیٰ عہدیداروں سے مذاکرات کے دوران پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کئے اور اس کے لیے کردستان ریجن کے صدر نے دونوں جانب سے پیغام رسانی کی اور امریکی خدشات کو دور کئے۔

ایکسوئس نے رپورٹ میں بتایا کہ رواں برس مئی کے وسط میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے والے امریکی مذاکرات کار مخصمے کا شکار تھے اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ جن کے ساتھ وہ مذاکرات کر رہے ہیں آیا وہ واقعی ایران کی طاقت ور فورس پاسداران انقلاب کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ایک غیرروایتی طریقہ اپنایا۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہو کر استعفا دیا، ایران کا دعویٰ

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطہ کیا اور ان خفیہ رابطوں کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی کا انتخاب کیا کیونکہ ان وہ ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن پرامریکا اور پاسداران انقلاب دونوں کی قیات کا اعتماد تھا۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ یہ تفصیلات مذکورہ معلومات رکھنے والے تین ذرائع نے فراہم کی ہیں اور یہ معلومات اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئیں۔

مزید بتایا گیا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی اور اس کے چند دن بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی اور مئی کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کو ایسا لگا کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں لیکن ایران نے اپنے جواب میں 10 دن سے زیادہ کی تاخیر کی۔

جس پر وائٹ ہاؤس کے مذاکرات کار یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ ایرانی مذاکرات کار پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کے پاس معاہدہ طے کرنے کے مکمل اختیارات نہیں ہیں اور پاسداران انقلاب ان کے فیصلوں کو منسوخ کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے محسوس کیا کہ پاسداران انقلاب کی قیادت تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ راستے کی ضرورت ہے اور 10 مئی کے قریب اس وقت کی ڈائریکٹرآف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی کو فون کرکے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی سے رابطہ قائم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران عراق جنگ کے دوران بارزانی ایران میں مقیم رہے تھے اور انہوں نے تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، وہ فارسی پر مکمل عبوررکھتے ہیں، اس کے علاوہ ایرانی حکومت کے کئی سینئرارکان بشمول پاسداران انقلاب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی چار صدور کے ساتھ بطور مشیر برائے مشرق وسطیٰ کام کرنے والے بریٹ میک گرک نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ نیچروان بارزانی ایک پریکٹیکل اور مسائل حل کرنے والی شخصیت ہیں، جن کا خطے بھر میں احترام کیا جاتا ہے اور انہیں واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران میں بھی ہر کوئی جانتا ہے اس لیے مشکل وقت میں آپ انہی سے رابطہ کرتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی پر واضح کیا تھا کہ وہ یہ کال صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری سے کر رہی ہیں اور وائٹ ہاؤس یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا جنرل احمد وحیدی اور پاسداران انقلاب کی قیادت ان باتوں سے متفق ہے جو قالیباف اور عراقچی طے کر رہے ہیں، یا ان کے ذہن میں کچھ اور خیالات یا مطالبات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز پر امریکی دعوے کے خلاف ایران کا سخت ردعمل

اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ نیچروان بارزانی نے تلسی گبارڈ کی درخواست قبول کرلی اور پاسداران انقلاب میں رابطے کیے، جنرل احمد وحیدی کو براہ راست ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا پیغام پہنچانے کی خواہش ظاہر کی، جس پرایرانی رضامند ہو گئے ۔

14 مئی کو پاسداران انقلاب کا ایک اہلکار محفوظ کال کرنے کے لیے انکرپٹڈ فون کے ساتھ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں نیچروان بارزانی کے دفتر پہنچا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نیچروان بارزانی نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس کو پیغامات بھیجے ہیں جن میں امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں مدد کی پیش کش کی گئی ہے۔