اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) مکہ دفاعی معاہدے کے معمار پاک فوج کے سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا آرکیٹیکٹ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اس اہم پیشرفت کو ان کے اسٹریٹجک ویژن کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پیشرفت میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم دفاعی معاہدوں کی راہ ہموار کی اور فوجی روابط کو دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ نئی سفارتی راہیں کھولنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا۔۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ کسی بھی طور “مسلم نیٹو” نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ایٹمی ضمانت شامل ہے، بلکہ اسے تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب ایک منطقی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سہ فریقی دفاعی معاہدہ:وزیراعظم شہبازشریف کا محمد بن سلمان،ترکیہ صدر اور فیلڈ مارشل سے اظہار تشکر
معاہدہ اجتماعی سلامتی اور اجتماعی ڈیٹرنس (Collective Deterrence) کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالککیلئے مشترکہ خطرہ تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کسی بھی جارحیت کے اثرات نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام، خوشحالی اور مستقبل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل عاصم منیر، محمد بن سلمان اور ترک صدر کی اکھٹے نماز جمعہ ادائیگی
واضح رہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کیخلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، خود انحصاری اور سکیورٹی کے فروغ کیلئے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد امن کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کی حوصلہ شکنی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔




