نیویارک: امریکی معیشت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی،گزشتہ ماہ غیر متوقع طور پر 23,000 ملازمتیں کم ہو گئیں، جس کے بعد لیبر مارکیٹ کے حوالے سے خدشات بڑھنے لگے۔
فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات مدہم پڑ گئے جس کے بعد اس کے اثرات ٹریژری ییلڈز پر بھی دیکھے گئے ۔
اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد بانڈ مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھا گیا ، مارگیج، آٹو لونز اور کریڈٹ کارڈز کیلئے بینچ مارک سمجھے جانیوالے 10 سالہ امریکی ٹریژری نوٹ کی ییلڈ 4 بیسس پوائنٹس کی کمی سے 4.621 فیصد پر آ گئی۔
اسی طرح مختصر مدت کے لیے فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی توقعات کی عکاسی کرنے والے 2 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ 6 بیسس پوائنٹس سے زائد کم ہو کر 4.176 فیصد ہو گئی جو 17 جولائی کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔
جبکہ 30 سالہ ٹریژری ییلڈ 2 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 5.189 فیصد پر بند ہوئی۔ ماہرین کے مطابق ایک بیسس پوائنٹ 0.01 فیصد پوائنٹ کے مساوی ہوتا ہے اور ییلڈز اور قیمتیں ہمیشہ مخالف سمت میں حرکت کرتی ہیں۔
ڈاؤ جونز کے اتفاق رائے کے برعکس، جہاں معیشت میں 83,000 نئی ملازمتوں کے اضافے کی توقع کی جا رہی تھی، نان فارم پے رولز میں ماہانہ بنیادوں پر 23,000 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ بے روزگاری کی شرح قدرے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی جبکہ وال اسٹریٹ کا اندازہ تھا کہ یہ 4.2 فیصد پر برقرار رہے گی، تاہم لیبر فورس کی شرکت کی شرح کم ہو کر 61.4 فیصد رہ گئی جو 5 سال سے زیادہ عرصے میں اس کی کم ترین سطح ہے۔
ولسی ایسٹ مینجمنٹ کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر برینٹ ولسی کا کہنا ہے کہ جولائی کی یہ رپورٹ توقع سے کہیں زیادہ کمزور ہے اور اس سے فیڈرل ریزرو کے لیے ایک نئی الجھن پیدا ہو گئی ہے کیونکہ مہنگائی اب بھی بلند اور سرکش بنی ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے بعد تاجروں نے ستمبر میں مرکزی بینک کے پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود میں اضافے کی توقعات کو کم کر دیا ہے اور سی ایم ای گروپ کے فیڈ وِچ ٹول کے مطابق ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات کم ہو کر 44 فیصد رہ گئے ہیں۔




