نئی دہلی(کشمیر ڈیجیتل) بھارت کے سرکاری خلائی ادارے اسرو (اسرو) سے 100 سے زائد سائنسدانوں کی نجی خلائی کمپنیوں میں شمولیت کے بعد ادارے کے مستقبل اور خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے کردار پر تشویش سامنے آنے لگی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرو کے بنگلور اور تروندرم میں واقع راکٹ سازی اور لانچنگ مراکز سے 100 سے زائد سائنسدان نجی خلائی کمپنیوں میں شامل ہوچکے ہیں، جس کے باعث ادارے کے اندر مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
بھارت میں خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شمولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حیدرآباد کی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے رواں سال اپنے راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ خلا میں پہنچایا، جسے بھارتی خلائی صنعت میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی ایک اہم مثال قرار دیا جارہا ہے۔
خلائی شعبے کے ضابطہ ساز ادارے اِن اسپیس کے سربراہ پون کمار گوئنکا نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ اسرو کی اہمیت کم نہیں کی جارہی۔ ان کے مطابق نجی کمپنیاں تجارتی راکٹ، سیٹلائٹس اور دیگر ٹیکنالوجیز کی تیاری پر توجہ دیں گی، جبکہ اسرو تحقیق، سائنسی مشنز، نئی ٹیکنالوجی، اسٹریٹیجک منصوبوں اور پیچیدہ خلائی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
تاہم اسرو کے ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تجارتی لانچنگ، راکٹ سازی اور بعض ٹیکنالوجیز سے متعلق سرگرمیاں نجی شعبے کو منتقل کردی گئیں تو مستقبل میں سرکاری خلائی ادارے کا عملی کردار کیا رہ جائے گا۔
ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے بھی ادارے کی قیادت سے نجی کمپنیوں کو راکٹ سازی، ٹیکنالوجی اور لانچنگ سے متعلق کام منتقل کرنے کی پالیسی پر وضاحت طلب کی ہے۔
اسرو کے سربراہ وی نارائنن نے ملازمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ادارے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق اسرو بھارت کے مستقبل کے بڑے خلائی منصوبوں، جن میں خلائی اسٹیشن کا قیام، چاند پر انسانی مشن اور نئی خلائی ٹیکنالوجیز کی تیاری شامل ہیں، میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔
بھارتی حکومت کی 2020 کی خلائی پالیسی کے بعد ملک میں نجی خلائی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پالیسی کا مقصد نجی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر عالمی خلائی مارکیٹ میں بھارت کا حصہ بڑھانا ہے۔
ماہرین کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت سے خلائی صنعت میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھ سکتے ہیں، تاہم تجربہ کار سائنسدانوں کی اسرو سے نجی کمپنیوں کی جانب منتقلی ادارے کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
اس صورتحال میں اسرو کو اپنی سائنسی اور قومی خلائی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں اپنے مستقبل کے عملی دائرہ کار اور ترجیحات کا تعین بھی کرنا ہوگا۔




