مسلم لیگ ن الیکشن سیل کا الیکشن کمیشن کو خط، پیپلز پارٹی کے تمام الزامات مسترد

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کو ایک اہم مکتوب ارسال کرتے ہوئے حلقہ ایل اے 40 (ویلی ون) سے متعلق پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر کردہ تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن پر اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ تمام معاملات کا فیصلہ صرف قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔

مسلم لیگ ن کے الیکشن سیل کے مطابق، ان کے امیدوار محمد نعیم خان، تمام پولنگ ایجنٹس اور پارٹی کارکنان نے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق اور قوانین کے عین مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے تمام انتظامی الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور حقائق کے منافی ہیں۔

مزید پڑھیں: حلقہ ایل اے 28 کے 71 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ نہ پہنچ سکا، پاکستان پیپلز پارٹی کا چیف الیکشن کمشنر کو خط!

انتخابی عمل اور انتظامی ذمہ داریاں:

مکتوب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر انتظامی امور کو سنبھالنا الیکشن کمیشن اور متعلقہ سرکاری حکام کی قانونی ذمہ داری ہے، جس میں کسی سیاسی جماعت کا کوئی نا روا دخل نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس اور قابلِ تصدیق شواہد کے انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی غیر قانونی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولنگ اسٹیشن پر عبدالقدیر کی جگہ عبدالقادر چھپ گیا: پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو شکایت بھیج دی

الیکشن سیل نے تاکید کی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر دائر کی جانے والی ایسی بے بنیاد شکایات سے عام ووٹرز اور عوام کا جمہوری و انتخابی عمل پر سے اعتماد مجروح نہیں ہونا چاہیے۔

الیکشن کمیشن سے مطالبات اور اعتماد کا اظہار:

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر پر اپنے مکمل اور غیر متزلزل اعتماد کا اعادہ کرتے ہوئے درج ذیل اہم مطالبات کیے ہیں:

  • تمام دائر کردہ شکایات کا تصفیہ صرف اور صرف قابلِ تصدیق شواہد، قانونی ضوابط اور سرکاری رپورٹس کی بنیاد پر کیا جائے۔
  • بغیر شواہد کے عائد کیے جانے والے گمراہ کن الزامات کا نوٹس لیا جائے اور کسی امیدوار یا کارکن کے خلاف بلا ثبوت کارروائی نہ کی جائے۔
  • حلقہ ایل اے 40 (ویلی ون) میں پرامن، شفاف، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق پولنگ کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔