منظر نقوی
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے جس انداز میں بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، اس نے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحث کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان مہنگائی، توانائی کے بحران، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور عوامی مشکلات سے دوچار ہے، ان کی یہ گفتگو بہت سے حلقوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوئی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج پاکستان کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں کمزور طرزِ حکمرانی، بدعنوانی، بیوروکریسی کی سست روی، مہنگی بجلی اور گیس، صنعتوں کی بندش، بے روزگاری اور عوامی مشکلات سرفہرست ہیں۔ توانائی کی بلند قیمتوں نے نہ صرف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے بلکہ سرمایہ کاری اور برآمدات کو بھی متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً کاروباری سرگرمیاں محدود ہو رہی ہیں اور عام آدمی کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو چکی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں مختلف سیاسی حکومتیں برسرِ اقتدار آئیں، لیکن عوامی سطح پر یہ تاثر موجود رہا کہ حکمرانی کا معیار وہ نہیں بن سکا جس کی قوم کو توقع تھی۔ ہر حکومت نے اصلاحات کے دعوے کیے، مگر بدعنوانی، سیاسی مداخلت، ادارہ جاتی کمزوری اور ناقص انتظامی نظام جیسے مسائل پوری طرح ختم نہ ہو سکے۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ بھی قومی معیشت پر ایک بھاری بوجھ بنتا گیا۔
جمہوری نظام کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتا ہے، تاہم جمہوریت کی کامیابی صرف انتخابات سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف احتساب، مؤثر قانون کی حکمرانی، بااختیار مقامی حکومتوں اور عوامی خدمت پر مبنی انتظامی ڈھانچے سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر ادارے کمزور ہوں اور اختیارات چند مراکز تک محدود رہ جائیں تو عوام تک ترقی کے ثمرات پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں بلدیاتی اداروں کا مسئلہ بھی ایک اہم قومی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف ادوار میں مقامی حکومتوں کو یا تو تحلیل کیا گیا یا ان کے اختیارات محدود کر دیے گئے، جس کے باعث نچلی سطح پر قیادت کی تربیت اور عوامی مسائل کے فوری حل کا نظام کمزور پڑ گیا۔ مضبوط بلدیاتی نظام نہ صرف بہتر عوامی خدمات فراہم کرتا ہے بلکہ نئی قیادت کو بھی جنم دیتا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔
محسن نقوی کی جانب سے زیادہ انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کی تجویز بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی تقسیم کے ذریعے حکمرانی کو عوام کے قریب لایا گیا، جس سے خدمات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں بہتری آئی۔ پاکستان میں بھی اگر ایسی اصلاحات قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق کی جائیں تو یہ بہتر انتظامی نظام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنز پر جانے سے روک دیا، ن لیگ ٹھپے لگارہی ہے، پیپلزپارٹی کا الزام
دوسری جانب پاکستان کی سلامتی اور دفاعی میدان میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت بھی قومی اعتماد میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ متعدد مبصرین فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سفارتی روابط اور دفاعی تعاون میں اضافے کو پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ تاہم قومی ترقی کا اصل معیار صرف دفاعی طاقت نہیں بلکہ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، قابلِ اعتماد عدالتی نظام، مؤثر گورننس اور خوشحال عوام ہیں۔
پاکستانی عوام کی بنیادی خواہشات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ مہنگی بجلی سے نجات، روزگار کے مواقع، بہتر صحت و تعلیم، انصاف کی فوری فراہمی، شفاف احتساب اور ایسی حکمرانی چاہتے ہیں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اگر ریاست ان بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
محسن نقوی کی حالیہ گفتگو نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کو صرف معاشی پیکجز نہیں بلکہ گہرے انتظامی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت مؤثر گورننس، شفاف احتساب، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بااختیار بلدیاتی نظام اور عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنائے تو پاکستان اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے، اداروں کو مضبوط بنایا جائے، عوامی خدمت کو حکمرانی کا محور بنایا جائے اور ایسے نظام کی تشکیل کی جائے جہاں ترقی کے ثمرات ہر پاکستانی تک پہنچ سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو معاشی استحکام، سیاسی مضبوطی اور قومی خوشحالی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔




