آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن کا دوسرا مرحلہ کل 2 اگست بروز اتوار کو مظفرآباد ڈویژن میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ ایک ماہ سے جاری شور انگیز انتخابی مہم گزشتہ رات مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد اب انتخابی عملے کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ بیگز اور سامان کی ترسیل کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ الیکشن کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے 3 اضلاع کی 9 نشستیں اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستیں شامل ہیں۔ مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں میں ضلع نیلم ویلی کی 2 سیٹیں، ضلع مظفر آباد کی 5 سیٹیں اور ضلع جہلم ویلی کی 2 سیٹیں شامل ہیں، جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں میں جموں کی 6 نشستیں (ایل اے 34 جموں 1 سے ایل اے 39 جموں 6) اور وادی کشمیر کی 6 نشستیں (ایل اے 40 ویلی 1 سے ایل اے 45 ویلی 6) شامل ہیں جہاں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
رجسٹرڈ ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنز کے اعداد و شمار:
مظفرآباد ڈویژن کے 3 اضلاع کی 9 نشستوں پر رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 8 لاکھ 90 ہزار 621 ہے۔ جن میں 4 لاکھ 27 ہزار 955 مرد ووٹرز اور 3 لاکھ 81 ہزار 666 خواتین ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ انتخابی عمل کو منظم اور آسان بنانے کے لیے ڈویژن بھر میں مجموعی طور پر 1 ہزار 483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر الیکشن: انتخابی مہم آج رات 12 بجے ختم، پولنگ کی تیاریاں مکمل
چیف الیکشن کمشنر کا پیغام اور حساس حلقے:
الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلیں، کیونکہ اگر عوام روٹھ کر بیٹھ جائیں گے تو مسئلہ جلسے جلوس اور احتجاج سے حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا مشکل ترین انتخاب ہے اور اگر حالات خراب ہوئے تو راولا کوٹ کے انتخابات آگے پیچھے بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مظفرآباد کے 2 حلقوں ایل اے 28 لچھراٹ اور ایل اے 31 کھاوڑہ کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔
الیکشن کا ماحول، کارنر میٹنگز اور سیاسی گہما گہمی:
مجموعی طور پر تمام اضلاع میں الیکشن کا زبردست ماحول بنا ہوا ہے۔ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد آج سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور ذمہ داران پولنگ اسٹیشنز کے دورے کر رہے ہیں اور امیدواروں کی جانب سے اندرونی سطح پر کارنر میٹنگز جاری ہیں۔ مظفرآباد ڈویژن میں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین انتہائی کانٹے دار اور سخت مقابلے کی توقع ہے۔
مظفرآباد ڈویژن کے تمام 9 حلقوں کے بڑے مقابلے:
ایل اے 25 نیلم 1: 80 ہزار 239 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں عبدالوحید کے مابین سخت ون ٹو ون مقابلہ ہے۔ گزشتہ الیکشن میں شاہ غلام قادر 14 ہزار 341 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، میاں وحید دوسرے اور پی ٹی آئی کے سردار گل خنداں تیسرے نمبر پر رہے تھے۔
ایل اے 26 نیلم 2: 71 ہزار 672 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں شاہ غلام قادر، میاں عبدالوحید اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس مدمقابل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اصل مقابلہ شاہ غلام قادر اور میاں وحید کے درمیان ہی ہے، جبکہ سردار تنویر الیاس کو غیر آبائی حلقہ ہونے اور مہم کا کم وقت ملنے پر مشکلات کا سامنا ہے۔
ایل اے 27 کوٹلہ: 87 ہزار 706 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے سردار جاوید ایوب کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار یہاں مسلم لیگ (ن) کی نورین عارف، پیپلز پارٹی کے جاوید ایوب اور استحکام پاکستان پارٹی کے سردار تبارک کے مابین سہ فریقی مقابلہ ہے۔
ایل اے 28 لچھراٹ (انتہائی حساس): پچھلے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے سید بازل علی نقوی کامیاب ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے چوہدری شہزاد دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اب دوبارہ انہی کے مابین ون ٹو ون مقابلہ ہے، جہاں ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری شہزاد کو سید مرتضیٰ گیلانی کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ایل اے 29 سٹی: گزشتہ انتخابات میں خواجہ فاروق کامیاب ہوئے تھے، لیکن اس بار مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی اور پیپلز پارٹی کے سردار مختار عباسی کے مابین کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔
ایل اے 30 ہٹیاں دوپٹہ: گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے چوہدری رشید کامیاب ہوئے تھے، جبکہ اب مسلم لیگ (ن) کے مصطفیٰ بشیر اور پیپلز پارٹی کے مبشر منیر اعوان میں مقابلہ ہے۔ مصطفیٰ بشیر عباسی کو رفاقت اعوان کا تعاون حاصل ہے۔
ایل اے 31 کھاوڑہ (انتہائی حساس): پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر اور مسلم لیگ (ن) کے ثاقب مجید راجا کے مابین زبردست مقابلہ ہے اور تیسرا کوئی امیدوار مقابلہ میں دکھائی نہیں دے رہا۔ ثاقب مجید راجا اپنی فتح کے لیے پرامید ہیں جبکہ جیالوں نے بھی بھرپور مہم چلائی ہے۔ مبصرین کے مطابق جیت اور ہار کا فیصلہ انتہائی کم مارجن سے ہوگا۔
ایل اے 32 چکار جہلم ویلی: سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ اشفاق ظفر کے مابین سخت مقابلہ ہے۔ گزشتہ الیکشن میں راجہ فاروق حیدر 400 ووٹوں کی معمولی لیڈ سے جیتے تھے جس پر اشفاق ظفر نے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اس حلقے سے جماعت اسلامی کے ڈاکٹر مشتاق بھی میدان میں ہیں۔
ایل اے 33 جہلم ویلی 2: پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی ٹکٹ پر دیوان چغتائی نے راجہ فاروق حیدر کو شکست دی تھی۔ اب دیوان چغتائی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے سابق ساتھی چوہدری رشید مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر مدمقابل ہیں، جہاں دونوں کے درمیان برادری کارڈ کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔




