پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ وہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔
60 کلوگرام ویٹ کیٹیگری میں حصہ لینے والی فاطمہ زہرا کا شاندار سفر سیمی فائنل میں اختتام پذیر ہوا جہاں انہیں کینیڈا کی میری باتھول الاحمدیہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم سیمی فائنل تک رسائی کے باعث انہیں کانسی کا تمغہ ملا جو گلاسگو 2026 میں پاکستان کا پہلا تمغہ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کامن ویلتھ گیمز، جیولن تھرو میں ارشد ندیم گولڈ میڈل کا دفاع کرنے میں ناکام
فاطمہ زہرا نے کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کے خلاف شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے متفقہ 5-0 فیصلے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی تکنیکی مہارت، جارحانہ انداز اور بہترین کارکردگی نے پاکستانی شائقین میں تاریخی تمغے کی امیدیں روشن کر دی تھیں۔
اگرچہ وہ سیمی فائنل میں فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکیں تاہم ان کا کانسی کا تمغہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بن گیا ہے۔
فاطمہ زہرا کی کامیابی کو پاکستان میں خواتین کے کھیلوں کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی ملک بھر کی نوجوان لڑکیوں کو کھیلوں خصوصاً باکسنگ میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے گی جہاں خواتین کی نمائندگی ماضی میں محدود رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کامن ویلتھ گیمز ،36رکنی دستے کا اعلان، قیادت ارشد ندیم کے سپرد
فاطمہ زہرا کی تاریخی کامیابی پر سوشل میڈیا پر مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ وزیراعظم سمیت مختلف قومی شخصیات نے بھی انہیں شاندار کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے بھی اپنے بیان میں فاطمہ زہرا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان میں خواتین کی باکسنگ کے روشن مستقبل اور بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔




