وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ متبادل ریونیو پلان کے بغیر پیٹرولیم لیوی میں کمی کی آئی ایم ایف سے منظوری ملنے کا امکان نہیں ہے،اگر حکومت لیوی میں کمی سے ہونے والے ریونیو خسارے کا قابلِ عمل متبادل پیش کرے تو شاید آئی ایم ایف رضامند ہو جائے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں کمی کا فیصلہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب حکومت اس سے ہونے والے ریونیو نقصان کو پورا کرنے کے لیے متبادل آمدن کا ذریعہ فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیزل 66 پیسے، پیٹرول کی قیمت میں 12پیسے کمی،نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے کہا کہ موجودہ لیوی ماضی کے جنگی حالات میں عائد کیے گئے لیوی ریٹ سے بھی کم ہےتاہم متبادل ریونیو پلان کی صورت میں شاید آئی ایم ایف اس پر آمادہ ہو جائے۔
اجلاس کے دوران ارکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر سوالات اٹھائے اور اسے عوام پر اضافی بوجھ قرار دیا۔
اس پر وزیرِ پیٹرولیم نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے قیمتوں کے تعین سے سیاسی مداخلت ختم کر دی ہے اور یہ اختیار مکمل شفاف طریقہ کار کے تحت اوگرا کو دے دیا گیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات بہتر انداز میں سنبھالے جا سکیں۔
اوگرا کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل کے بجائے سنگاپور مارکیٹ کے بینچ مارک سے منسلک ہیں۔
ان کے مطابق روزانہ قیمتوں کا نظام عالمی منڈی میں اچانک تبدیلیوں کے اثرات کو مرحلہ وار منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے اور صارفین کو بڑے جھٹکوں سے بچاتا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عوام کے لیے ‘سلو پوائزن’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام صارف پیچیدہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو نہ سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی روزانہ تبدیلیوں کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا پیٹرولیم شعبے کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کرنے کا فیصلہ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے آئل رگز کی کارکردگی کے آڈٹ نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کارکردگی آڈٹ رپورٹ 7 روز کے اندر جمع کرائی جائے۔
کمیٹی نے اوگرا کے مستقل چیئرمین کی تقرری میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے۔ اس پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ پہلے مناسب امیدوار نہ ملنے کے باعث تقرری کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔




