بھارتی طلباء کی احتجاجی تحریک ،پاکستانی سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش،مودی کا چہرہ بے نقاب

جب بھی بھارت کو طلبہ، کسانوں یا سول سوسائٹی کی طرف سے اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج کا سامنا ہوتا ہے، تو فوری ردِعمل کے طور پر بیرونی قوتوں کو مورد الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

بھارت میں جاری اسٹوڈنٹ احتجاج کی آڑ میں پاکستانی سوشل میڈیا پر الزام تراشی دراصل اپنے جائز اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور جوابدہی سے بچنے کا وہ حربہ ہے جو بھارت تسلسل سےاستعمال کرتا چلا آیا ہے۔

بھارت کو ہمیشہ سے ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنے والی ہر رائے پرپاکستانی ڈس انفارمیشن کا لیبل لگانے کا ایک جنون سوار ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں لڑکیوں سے زیادہ گائے محفوظ، آئین نہ بچایا تو ملک کشمیر جیسی جیل بن جائے گا،محبوبہ مفتی

سرحد پار سازشی نظریات گھڑنے سے نہ تو اندرونی ناکامیاں چھپ سکتی ہیں اور نہ ہی احتجاجی طلبہ کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی میڈیا اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا خوف دراصل حقائق کے سامنے عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہوتا ہے جو بھارت کی ریاستی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں۔

جب ریاست کے زیرِ اثر میڈیا اپنے ہی عوام کو قائل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو سرحد پار انگلیاں اٹھانا سب سے آسان بہانہ ہوتا ہے۔

معرکۂ حق میں ہندستان نے نہ صرف جنگی محاذ پر ہزیمت اٹھائی بلکہ انفارمیشن کے میدان میں بھی جھوٹے بیانیوں اور من گھڑہت افسانوں کی بدولت گودی میڈیا اور ہندوستانی سوشل میڈیا کو منہ کی کھانی پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ انکی جھوٹے الزامات اور کردار کشی کی مہمات اب اپنا وزن کھو چکی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کے ذریعے احتجاجی طلباء کو مطمئن کرنے کیلئے کے وردی پوش اہلکاروں کے ریکارڈ شدہ بیانات چلائے جا رہے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑنے لگی، بیرون ممالک میں بھی مودی سرکار کیخلاف احتجاج

بدحواسی میں بھارتی یہ بھول گئے ہیں الزامات کے مستند ہونے کیلئے شفاف تکنیکی ڈیٹا (Metadata) کی ضرورت ہوتی ہے نا کہ سرکاری اہلکاروں کی پروپیگنڈا ویڈیوز کی ۔

تصدیق شدہ ڈیجیٹل فارنسک یا IP ٹریسنگ فراہم کرنے کے بجائے، سیکیورٹی حکام کے سکرپٹ شدہ یا جبر پر مبنی بیانات پر انحصار ان الزامات کے پیچھے کسی حقیقی ثبوت کے نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

‘پاکستانی ڈس انفارمیشن کا یہ جنون صرف اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ اطلاعاتی جنگ میں بھارت کا سرکاری بیانیہ کس قدر کمزور اور کھوکھلا ہو چکا ہے۔