وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا پیٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال پر اہم ردِعمل سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے پمپ مالکان ایسوسی ایشن کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے انہیں دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت ڈیلرز کے ساتھ مل کر تمام درپیش مسائل کا پائیدار حل نکالنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی صورتحال اور ڈیلرز کے خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومت اس مشکل وقت میں بھی جنگ بندی اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آج بھی سات دنوں کی اوسط قیمت کو معیار بنا کر فیصلے کر رہی ہے تاکہ عوام اور ڈیلرز دونوں پر یکدم بوجھ نہ پڑے۔ اس طریقہ کار سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں پانچ ڈالر کا بڑا اضافہ نہیں ہوگا بلکہ صرف معمولی کمی یا اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول 4 روپے93پیسے ،ڈیزل 7روپے 15پیسے فی لیٹر مہنگا، نوٹیفکیشن جاری
اوگرا سے ملاقات اور ڈیلرز کے مطالبات کا جائزہ:
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پمپ مالکان ایسوسی ایشن کے نمائندے کل چیئرمین اوگرا سے اہم ملاقات کریں گے جہاں ان کے تمام جائز مطالبات پر پیشرفت اور مسائل کے حل کی راہ ہموار کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے مناسب وقت درکار ہے اور اگر اس معاملے میں پمپ مالکان کو کسی قسم کی سہولت چاہیے تو حکومت وہ سہولت فراہم کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
لیوی کی شرح اور معیشت کی ڈاکومنٹیشن:
علی پرویز ملک نے پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پر لیوی کی شرح آج بھی جنگ سے پہلے کی سطح پر ہی برقرار رکھی گئی ہے۔ اگر کوئی فریق اس لیوی کو مزید کم کروانا چاہتا ہے تو اس کے لیے معیشت کی کامل ڈاکومنٹیشن انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں ہر فرد اور ادارے کو اپنے جائز منافع کی حد پر قانون کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
حکومتی اقدامات اور جاری مذاکراتی کوششیں:
وزیر پیٹرولیم نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محسن نقوی بھی آج اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پیٹرول پمپ مالکان کو تمام معاملات سمجھانے اور صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہمارے امریکی ساتھیوں کو بھی صورتحال کے تمام پہلو سمجھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ کرے یہ تمام معاملات مستقل جنگ بندی کی طرف چلے جائیں تاکہ ملکی اور قومی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری: پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ
ہڑتال پر تحفظات اور آئندہ کا لائحہ عمل:
وفاقی وزیر نے پیٹرول پمپ مالکان کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اجلت میں ہڑتال کا فیصلہ کیا، حالانکہ انہیں حکومت کے موقف اور معاشی صورتحال کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ڈیلرز کو مارجن کے واقعی مسائل درپیش ہیں اور جب عالمی سطح پر قیمتیں اوپر جا رہی ہوتی ہیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) انہیں درکار پروڈکٹ فراہم نہیں کرتی ہیں۔ تاہم، حکومت ڈیلرز کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا منصفانہ حل نکالے گی۔




