خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے سے تباہی: ناران، باغ اور وادی نیلم میں نالے بے قابو

خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ اور آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع باغ، وادی نیلم اور ملحقہ علاقوں میں موسلا دھار بارشوں، طوفانی اسپیل، فلیش فلڈ اور کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ طوفانی بارش کے نتیجے میں ناران جھیل روڈ، نالہ ماہلوانی، نالہ ماہل اور کٹھہ پیراں نالے میں انتہائی درجے کی طغیانی آنے سے متعدد مکانات، تجارتی دکانیں، گاڑیاں، رابطہ پل اور بجلی کا بنیادی انفرا اسٹرکچر سیلابی ریلوں کی نذر ہو گیا ہے۔

ذرائع، پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس اچانک آفت سے اگرچہ کروڑوں روپے کا مالی و تجارتی نقصان ہوا ہے اور کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے، تاہم بروقت نقل مکانی اور فوری آگاہی کے باعث تمام متاثرہ خطوں سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں مطلع ابر آلود؛ محکمہ موسمیات نے ملک کے متعدد اضلاع میں بارش کی نوید سنا دی

مانسہرہ اور ناران میں فلیش فلڈ، سیاحوں کو سفر سے گریز کی ہدایت:

خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ اور اس کے گرد ونواح میں مسلسل تیسرے روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں جھیل روڈ اور ناران جھل کھڈ روڈ پر پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ طریقے سے ناران منتقل کر دیا گیا ہے۔ مسلسل بارش کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو اگلے 3 سے 4 روز تک بالائی علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب ناران میں فلیش فلڈ یعنی سیلابی ریلے کے باعث جھیل روڈ پر شدید لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کی وجہ سے یہ سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ سڑک کی اچانک بندش کی وجہ سے مختلف مقامات پر متعدد سیاحوں کی گاڑیاں اور جیپیں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ صورتحال کے پیشِ نظر کے ڈی اے (KDA) کی بھاری مشینری کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا ہے جہاں ملبہ ہٹانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ریسکیو 1122 اور انتظامیہ نے سیاحوں سے پرزور گزارش کی ہے کہ سڑکیں بحال ہونے تک غیر ضروری سفر سے سخت گریز کریں۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہ کاری اور پی ڈی ایم اے الرٹ:

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم میں بارشوں سے شدید حادثات پیش آئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ باہم رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد امدادی سامان کی فراہمی اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام دریاؤوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح فی الوقت معمول کے مطابق ہے، تاہم تیز بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس بنا پر تمام ضلعی انتظامیہ کو پیشگی مراسلہ جاری کر کے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

ضلع باغ میں نالہ ماہل اور ماہلوانی کا تباہ کن سیلابی ریلا:

ضلع باغ اور اس کے بالائی پہاڑی علاقوں گنگا چوٹی، بیرپانی اور سدھن گلی میں رات گئے ہونے والی طوفانی بارش کے بعد نالہ ماہل اور نالہ ماہلوانی میں خوفناک طغیانی آ گئی۔ اس سیلابی ریلے نے قندیل کالونی، بائی پاس اور مین پل کے تجارتی علاقوں میں شدید تباہی مچائی، جہاں باغ مین پل کے پاس 8 دکانیں، 7 مکانات اور 4 گاڑیاں نالے کی نظر ہو گئیں۔

قندیل کالونی میں متعدد رہائشی مکانات پانی کے شدید بہاؤ میں بہہ گئے اور گھروں میں موجود قیمتی سامان، فرنیچر اور دیگر اشیاء ضائع ہو گئیں۔ اسی طرح باغ بائی پاس اور تجارتی علاقوں میں آٹو ورکشاپس اور دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ ورکشاپس کے اندر مرمت کے لیے موجود اور باہر پارک کی گئی کم از کم 15 گاڑیاں تیز رفتار پانی کی نذر ہو کر نالہ ماہل میں بہہ گئیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث باغ کو ملحقہ علاقوں سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہیں بھی معطل ہو چکی ہیں۔

وادی نیلم کے کٹھہ پیراں نالے میں بادل پھٹنے کی تباہ کاری:

مظفرآباد سے موصول ہونے والی اضطراری رپورٹ کے مطابق، وادی نیلم اور کاغان میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) سے سیزن کی سب سے تباہ کن صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ وادی نیلم کے کٹھہ پیراں نالے میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے خوفناک ریلے کے نتیجے میں 6 مکانات اور 25 دکانیں مکمل طور پر بہہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ شہریوں اور تاجروں کے ذاتی اثاثوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا، جس میں 3 گاڑیاں اور 11 موٹر سائیکلیں سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق کٹھہ پیراں میں سڑک اور اہم رابطہ پل بہہ جانے کے بعد مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ درجنوں گھروں کو کلی اور جزوی نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ تیار فصلیں، باغات، چھوٹے پیدل پل اور بجلی کا پورا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے متعدد دیہات اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد میں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر: تیز ہواؤں،گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات

انتظامیہ کا ہائی الرٹ اور احتیاطی تدابیر:

انتظامیہ نے خطرے سے دوچار مکانات اور دکانیں خالی کروا لی ہیں اور شہریوں کو ندی نالوں سے دور رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ریلیف آپریشن کے لیے ہائی الرٹ قائم کر دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ اور انتظامیہ نے مسافروں اور شہریوں سے التماس کی ہے کہ سڑکوں کی بحالی اور موسم بہتر ہونے تک غیر ضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں اور حساس علاقوں و ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔