امریکا کا ایک اور فوجی عراق میں ہلاک ہو گیا،سینٹ کام کی تصدیق

امریکا کا ایک اور فوجی عراق میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) کے مطابق شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کو کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اہلکار ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد باقی رہ جانے والے گولہ بارود کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے تباہ کرنے کے دوران ہلاک ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم لیڈر کی رہائشگاہ پر حملہ سکیورٹی خلا تھا، خطرات اب بھی ہیں، عراقچی

یہ واقعہ اردن پر ایرانی حملے میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک فوجی کے لاپتا ہونے کے بعد پیش آیا۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ مکمل تلاش کے بعد امریکی فوجی اہلکاروں کو آج جائے وقوعہ سے نامعلوم انسانی باقیات ملیں، باقیات کی شناخت اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا تھا جب کہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب کویت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے شہری اور ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔

کویت کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل سعود عبدالعزیز نے بتایا کہ ایران کی قابل مذمت جارحیت کے نتیجے میں وزارت بجلی، پانی اور متبادل توانائی کی تنصیبات کو نقصان ہوا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، لبنان اور دیگر ممالک نے کویت، اردن اور بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔

اردن نے ایران کے سفارتی نمائندے کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے حملوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اردن کی وزارت خارجہ نے عمان میں ایرانی سفارت خانے میں تعینات ناظم الامور کو طلب کرکے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر شدید الفاظ میں احتجاج کا پیغام دیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے مزید حملے کئے جنگ کا رخ بدل دینگے، ایرانی کمانڈر کی دھمکی

اردن کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے اس موقع پر ایران کے سرکاری عہدیداروں کی جانب سےاشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کا معاملہ بھی اٹھایا۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن کی طرف داغے گئے میزائل ناکارہ بنائے گئے جس کا ملبہ اسرائیلی میں کھلی جگہ میں گرا تھا۔