پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے اقدامات سے دو بڑی سفارتی کامیابیوں کو سبوتاژ کیا جبکہ اس کے برعکس وہ خود کو دنیا کے سامنے امن پسند ظاہر کرتے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے (JCPOA) کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کو عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل تھی جسے امریکی فیصلے نے شدید نقصان پہنچایا۔
رضا امیری مقدم نے مزید اِکشاف کیا کہ امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں اپنی من مانی تشریحات اور بدنیتی کی بنیاد پراسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی دستخط کے محض 20 دن کے اندر ختم کر دیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ ایرانی سفیر رضا امیری کا تیکھا سوال
ان کا کہنا تھا کہ یہ یادداشت خطے میں امن و استحکام اور کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت تھی۔
ایرانی سفیر نے واشنگٹن پر معاہدے کی صریح خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے طے شدہ شرائط کو بالائے طاق رکھ کر خطے میں دوبارہ جنگی ماحول پیدا کیا ہے، اور آبنائے ہرمز پر قبضہ جما کر بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان حالیہ اقدامات نے نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ سفارتی اصولوں کو بھی گہرا دھچکا پہنچایا ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ عالمی امن کا انحصار بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری پر ہوتا ہے۔ جب دنیا کی کوئی بڑی طاقت خود ہی ان اصولوں سے انحراف کرتی ہے تو اس سے پورے عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ، ایران، سعودیہ اور ترکیہ مل کر اتحاد بنا سکتے ہیں،ایرانی سفیررضاامیری
رضا امیری مقدم نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور دیگر مقتدر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے ان اقدامات کا فوری نوٹس لیں، اور دنیا بھر میں دوہرے معیار کو ختم کر کے بین الاقوامی قوانین کا یکساں اطلاق یقینی بنائیں۔




