اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد 18 سالہ ثمن عباس کے قتل کیس میں والدین سمیت 5 رشتہ داروں کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ حتمی قرار دے دیا۔
اطالوی خبر رساں ادارے کے مطابق ثمن عباس کو 2021 میں اٹلی کے علاقے نوویلارا میں مبینہ طور پر اس لیے قتل کیا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے کزن سے طے شدہ شادی سے انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی میں پاکستانی نوجوان کی بہادری: پارک میں بچوں پر حملہ کرنے والے کو دبوچ لیا، کل سرکاری اعزاز سے نوازا جائے گا
سپریم کورٹ آف کیسیشن نے ثمن عباس کے والد شبیر عباس، والدہ نازیہ شاہین ،کزن اعجاز اکرم اور نعمان الحق کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی، جبکہ ان کے چچا دانش حسنین کی 22 سال قید کی سزا بھی برقرار رکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ثمن عباس نے 2020 میں خاندان کی جانب سے پاکستان میں کزن سے شادی کرانے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
کم عمری میں انہوں نے سماجی بہبود کے اداروں سے مدد طلب کی اور بعد ازاں والدین کے خلاف پولیس سے بھی رجوع کیاتاہم اپریل 2021 میں وہ دوبارہ اپنے گھر واپس چلی گئی تھیں۔
5 مئی 2021 کو پولیس ان کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، جس پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین انہیں چھوڑ کر پاکستان جا چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:نوبیل انعام کا اصل حقدار پاکستان ،اٹلی کے سابق وزیراعظم نے مطالبہ کردیا
تحقیقات کے دوران قریبی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز میں پانچ افراد کو بیلچے، لوہے کی سلاخ اور بالٹی اٹھائے جاتے اور چند گھنٹوں بعد واپس آتے دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔
رپورٹ کے مطابق قتل کے بعد والدین پاکستان فرار ہوگئے تھے، تاہم بعد میں انہیں آزادکشمیر سے گرفتار کرکے اٹلی کے حوالے کیا گیا تھا۔
بہیمانہ جرم کے ذمہ داروں کو سزا ملنا ضروری تھا، اطالوی وزیراعظم
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوئی فیصلہ ثمن عباس کی جان واپس نہیں لا سکتا، تاہم اس بہیمانہ جرم کے ذمہ داروں کو سزا ملنا ضروری تھا۔
Con la sentenza definitiva per l’omicidio di Saman Abbas si chiude una dolorosa vicenda giudiziaria.
Saman, giovane di origine pakistana in Italia, è stata uccisa dai suoi genitori e da alcuni familiari dopo essersi opposta a un matrimonio forzato e aver rivendicato il diritto… pic.twitter.com/nFrH3QyoId
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) July 15, 2026
انہوں نے کہا کہ اٹلی میں کسی کو بھی ثقافتی یا مذہبی جواز کی آڑ میں خواتین کی آزادی، عزت اور زندگی سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ ایسے اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ثمن عباس کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ وہ ضلع حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کے قریب واقع گاؤں چرن والا کی رہائشی تھیں۔ وہ 2016 میں اپنے خاندان کے ساتھ اٹلی منتقل ہوئی تھیں۔




