اٹلی کے شہر بریشا سے پاکستان کا نام روشن کرنے والی ایک انتہائی ایمان افروز اور جرات مندانہ خبر سامنے آئی ہے۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نوجوان نوید اسلم نے بریشا کے البیرینی پارک میں اپنی جان پر کھیل کر دو معصوم بچوں کو ایک سرپھرے حملہ آور سے بچا لیا۔ نوید اسلم کی اس غیر معمولی جرات کا اٹلی میں سرکاری طور پر اعتراف کر لیا گیا ہے اور انہیں بریشا کمیونٹی کی جانب سے خصوصی اعزاز دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، شام کے وقت البیرینی پارک میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے موجود تھے کہ اچانک وہاں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک 29 سالہ نائجیرین شہری، جو اٹلی میں قانونی طور پر مقیم تھا اور پولیس کو منشیات کے کیسز میں پہلے سے مطلوب تھا، اس نے پارک میں کھیل کود میں مصروف دو بچوں پر یکے بعد دیگرے حملہ کر دیا۔ اس نے پہلے ایک بچے کی گردن دبوچی، جو کسی طرح بچ نکلا، تو اس نے قریب ہی سائیکل چلاتے دوسرے بچے کی گردن کو سختی سے مروڑنا شروع کر دیا۔
اہلیہ کے روکنے اور دل کی بیماری کے باوجود نوید اسلم کا بڑا قدم
اس ہولناک صورتحال میں پارک میں موجود مائیں اور دیگر لوگ چیخ رہے تھے مگر خوف کے مارے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ نوید اسلم، جو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وہاں موجود تھے، انہوں نے فوری طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی اہلیہ نے انہیں روکا کہ ملزم کے پاس اسلحہ ہو سکتا ہے اور نوید کو چند ماہ قبل ہی دل کا عارضہ لاحق ہونے کے باعث “پیس میکر” (Pacing Device) لگایا گیا تھا، اس لیے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
نوید اسلم نے اپنی اہلیہ کو فوری پولیس ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا اور خود آگے بڑھ کر اس جنونی حملہ آور کو دبوچ لیا۔ نوید اسلم نے بتایا:
“بچے کو چھوڑ کر اب وہ شخص مجھ سے ہر صورت جان چھڑانا چاہتا تھا مگر میں نے اسے اپنی ٹانگوں میں دبوچ لیا۔ کئی منٹوں تک جاری رہنے والی دھینگا مشتی کے نتیجے میں مجھے سینے پر اس جگہ شدید درد شروع ہو گیا جہاں پیس میکر لگا ہوا تھا۔ میرے گھٹنے، بازو اور کہنیاں زخمی ہو چکی تھیں مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور پولیس کے آنے تک اسے جکڑے رکھا۔”
یہ بھی پڑھیں: امارات ایئر لائن کا دبئی جانے والے مسافروں کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل میں مفت قیام کا اعلان
ملک بدری کی کارروائی اور اٹلی میں سیاسی بحث کا آغاز
واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ بریشا کی میئر لورا کاسٹیلیتی نے اس سنگین واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آور کا رہائشی پرمٹ منسوخ کرنے اور اسے ملک بدر کرنے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب، ملزم کی ملک بدری پر ردعمل دیتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی ریجنل کونسلر میریام کومینیلی نے کہا کہ ہر سکیورٹی مسئلے کا ذمہ دار تارکین وطن کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حملہ آور اور بچوں کو بچانے والا (نوید اسلم) دونوں ہی غیر ملکی ہیں، اس لیے تارکین وطن کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ذہنی صحت کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
“نیکی کے بدلے نیکی” اور کل ہونے والی سرکاری تقریب
نوید اسلم سنہ 2018 سے اٹلی میں مستقل ویزے پر مقیم ہیں اور چار بچوں کے والد ہیں۔ انہوں نے اپنی اس جرات کے پیچھے چھپی ایک جذباتی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ قبل وہ دورانِ ڈیوٹی گاڑی میں بے ہوش ہو گئے تھے، تو ایک البانوی شخص نے ایمبولینس بلا کر اور ابتدائی طبی امداد دے کر ان کی جان بچائی تھی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں پیس میکر لگایا تھا۔ نوید کہتے ہیں کہ “میرے ساتھ بھی کسی نے اچھائی کی تھی، اس لیے مجھے بھی اچھائی کرنی تھی”۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ تھا جب پولیس کے ملزم کو پکڑنے پر پارک میں موجود اطالویوں نے ان کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
اطالوی ذرائع ابلاغ بشمول ’کوریئر ڈیلا سیرا‘ اور ’جرنل ڈی بریشا‘ کے مطابق، میونسپل انتظامیہ اور شہر کی میئر لورا کاسٹیلیتی کی جانب سے سٹی کونسل (پالازو لوگجیا) میں جمعہ 26 جون کو ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں نوید اسلم کو بریشا کمیونٹی کی جانب سے جرات اور شہری ذمہ داری کے اعتراف میں شکریے کا باقاعدہ سرکاری سرٹیفیکیٹ اور اعزاز دیا جائے گا۔




